سیکیورٹی کے لیے سب سے زیادہ پیسے خیبرپختونخوا کو ملے، صوبائی قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ

جمعہ 23 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ صوبے میں حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، سردیوں میں آپریشن مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ راستہ کیا ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے کہا کہ یہ یوم فتح ہے، طالبان کو پاکستان لانے والے سہولتکار بھی یہی ہیں اور دہشتگروں کو بھتہ بھی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟

ڈاکٹر عباد نے کہا کہ سردی میں آپریشن کی وجہ سے گھروں کو چھوڑنا مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ راستہ کیا ہے؟ صوبائی حکومت بھڑکیں مار رہی ہے کہ ہم آپریشن کے خلاف ہے لیکن آپریشن کے پیسے خود دے رہی ہے، ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا، اُدھر جا کر کچھ اور کہتے ہیں باہر جاکر کچھ اور۔

انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ پیسے خیبرپختونخوا کو ملے، 800 ارب روپے دیے گئے لیکن اب بھی صوبے میں نہ سی ٹی ڈی ہے، نہ فارنزک لیب اور نہ ہی سیف سٹی۔ یہ پیسے کہاں گئے؟

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز کے پیسوں کی بات کرتے ہیں لیکن اس وقت حکومت عمران خان کی تھی، اس وقت انہیں خیال کیوں نہ آیا؟ این ایف سی کے ممبرز میں بھی ان کے لوگ تھے لیکن انہوں نے بات کیوں نہیں کی؟

انہوں نے شکوہ کیا کہ سارے صوبے آگے نکل گئے ہیں لیکن ہم نے ریورس گئے لگایا ہوا ہے، کرپشن کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ہے، صوبائی حکومت کی توجہ صوبے کے مسائل پر ہونا چاہیے اور عوام کے مسائل کا ازالہ ہونا چاہیے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp