اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کے قریب

جمعہ 23 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جہاں کاروباری سیشن کے پہلے نصف میں کے ایس ای 100 انڈیکس 188,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔

دوپہر 12 بجے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 187,813.57 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 125.41 پوائنٹس یعنی 0.07 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل ہیں۔

اٹک ریفائنری، حبکو، اوجی ڈی سی ایل، پی او ایل، پاکستان پیٹرولیم، ایس این جی پی ایل، فوجی فرٹیلائزر، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرزسبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

رواں برس کی پہلی ابتدائی عوامی پیشکش  یعنی آئی پی او پاک-قطر جنرل تکافل لمیٹڈ  نے گزشتہ روز یعنی جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم کی، جہاں اسے روپے کی بنیاد پر 21 گنا زائد سبسکرپشن حاصل ہوئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

اسی روز، منتخب شیئرز میں خریداری کے باعث اسٹاک ایکسچینج میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، جس سے مارکیٹ پچھلے سیشن کی شدید فروخت کے بعد کچھ نقصانات پورے کرنے میں کامیاب رہی۔

مجموعی طور پر مارکیٹ کے رجحان میں بہتری آئی اور بینچ مارک انڈیکس دن کے اختتام پر مثبت زون میں بند ہوا۔، کے ایس ای 100 انڈیکس 654.90 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 187,688.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر، ایشیائی مارکیٹوں میں جمعے کو حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جب بینک آف جاپان نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، اسی دوران امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھنے کے باعث سونا اور چاندی نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.5 فیصد بڑھا، جبکہ نکی 225 میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 کے ای-منی فیوچرز میں اتار چڑھاؤ رہا اور وہ 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔

بینک آف جاپان کے فیصلے کے بعد ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوا اور آخری بار 158.61 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp