پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اتحاد نے اپوزیشن کے احتجاج، نعرہ بازی اور شدید مباحثے کے باوجود 3 اہم قوانین منظور کر کے بڑی قانونی کامیابی حاصل کر لی۔
پارلیمنٹ نے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ، ڈانش اسکولز اتھارٹی بل اور ڈومیسٹک وائلنس پریونشن اینڈ پروٹیکشن بل کو منظور کیا۔ یہ تینوں بل پہلے صدر کی جانب سے واپس کیے گئے تھے، مگر اعتراضات دور کر کے دوبارہ پیش کیے گئے اور منظور کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کی رقم بچیوں کی تعلیم پرخرچ ہوگی، سینیٹ نے بل منظور کرلیا
پارلیمانی امور کے وزیر نے صدر آصف علی زرداری کے اعتراضات دور کرنے کے بعد نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025 پیش کیا۔ ایوان نے بل کو شق بہ شق منظور کیا اور بعد ازاں اکثریتی ووٹ سے بل منظور کر لیا۔
پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کردہ ایک ترمیم منظور ہوئی جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف کے ترمیمی مسودے کو مسترد کر دیا گیا۔
ڈانش اسکولز اتھارٹی بل میں ترامیم کے بعد پاس
بعد ازاں پارلیمانی امور کے وزیر نے ڈانش اسکولز اتھارٹی بل کی شق 3 اور 4 میں ترامیم پیش کیں، جو اپوزیشن کے شور کے باوجود اکثریت کے ساتھ منظور کر لی گئیں۔
منظور شدہ ترامیم کے مطابق ڈااش اسکولز کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اتھارٹی کی منظوری لازمی ہو گی۔ اس بل کو بھی ایوان نے منظور کیا، جبکہ اپوزیشن اراکین اس دوران احتجاج کرتے رہ گئے۔
گھریلو تشدد بل پر شدید مباحثہ
ڈومیسٹک وائلنس پریونشن اینڈ پروٹیکشن بل سب سے زیادہ متنازع ثابت ہوا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی کی ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ مرد بھی اس قانون میں شامل کیے جائیں کیونکہ بہت سے مرد خاموشی سے گھریلو تشدد برداشت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیے
جماعت اسلامی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے بل میں ترامیم پیش کیں جن کی حمایت ان کے شوہر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی کی، مگر ایوان نے عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کر دیں اور شرمیلا فاروقی کی ترامیم کے ساتھ بل منظور کرلیا۔
اسپیکر کے ڈائس کے سامنے اپوزیشن کا احتجاج
اجلاس کے دوران 2 اپوزیشن اراکین اسپیکر کے ڈائس کے سامنے بینرز اٹھائے خاموشی سے کھڑے رہے، جنہوں نےخیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے انہیں ہدایت کی کہ قانون سازی مکمل ہونے دیں اور بعد میں احتجاج کریں۔
گھریلو تشدد بل پر تیز مباحثہ اور مزاحیہ تبصرے
گھریلو تشدد بل پر بحث کے دوران اسپیکر ایاز صادق، طلال چودھری اور کامران مرتضیٰ کے درمیان سخت اور بعض اوقات مزاحیہ تبادلہ خیال بھی ہوا۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ قانون خاندانی نظام کو نقصان پہنچائے گا اور جائیداد کے حقوق سے متعلق اعتراضات بھی اٹھائے، جنہیں مسترد کر دیا گیا۔ طلال چودھری نے کہا کہ پہلی بار مردوں کو گھریلو تشدد کے قانون میں شامل کیا گیا ہے اور بہت سے مرد ظلم کے باوجود آواز نہیں اٹھاتے۔
مولانا فضل الرحمان کی حکومت پر شدید تنقید
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے قوانین کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ مذہبی اصولوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، خصوصاً نابالغ شادیوں کے حوالے سے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان قوانین کی کھلے عام مخالفت کریں گے اور 14 اور 16 سال کی عمر کے بچوں کی شادیاں خود کرائیں گے اور شرکت بھی کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور 20 نکات پر مبنی قانون سازی کی وجہ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف عوامی تحریک چلائی تھی، اسی طرح موجودہ حکومت کے خلاف بھی سڑکوں پر نکل سکتے ہیں اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں لیں۔
تمام تینوں بلز کی منظوری کے بعد مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔














