کراچی گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سندھ حکومت کے سامنے پیش کر دی گئی، جس میں زمین کی ملکیت، لیز اور تعمیرات کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے واقعے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے باہر ہے، ہر دکاندار کو 5، 5 لاکھ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین ابتدا میں کے ایم سی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنیکا کمپنی نے 1979 سے اس زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں جبکہ 1983 میں زمین کی 99 سالہ لیز کی مدت ختم ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جنیکا نامی گروپ نے خرید لی، تاہم لیز ختم ہونے کے باوجود اس زمین پر تعمیرات کا آغاز کردیا گیا۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بعد ازاں ایم کیو ایم کے دور میں سابق میئر کراچی فاروق ستار کی میئرشپ کے دوران جنیکا کمپنی کو دوبارہ 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کے لیے 3 نومبر 1991 کو لیز پر دی گئی، جس پر سابق میئر کراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ زمین 3 روپے فی گز کے انتہائی کم کرائے پر لیز کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیرات کے ایم سی کی جانب سے بغیر باقاعدہ لیز کے 1883 سے 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں 1991 میں ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار نے زمین کی لیز کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں 2003 میں تعمیر کیے گئے اضافی فلور کو بھی ریگولرائز کردیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹس کونسل کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب، شمعیں روشن
سندھ حکومت کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں گل پلازہ سے متعلق متعدد قانونی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔














