بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک اہم اور غیر متوقع فیصلے میں اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کو ایک بار پھر قومی ٹیم کے انتخاب کے لیے زیرِ غور لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی پس منظر اور قانونی پیچیدگیوں کے باوجود بی سی بی کا کہنا ہے کہ فٹنس، دستیابی اور لاجسٹک معاملات کی تکمیل کی صورت میں شکیب کو ہوم اور اوے دونوں سیریز کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
بی سی بی کا یہ فیصلہ ہفتے کی شب ہونے والے 8 گھنٹے طویل بورڈ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد حکام نے تصدیق کی کہ شکیب الحسن کا نام دوبارہ سلیکٹرز کے ریڈار پر آ چکا ہے۔
بی سی بی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگر شکیب فٹ ہوں، دستیاب ہوں اور میچ وینیو تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو بورڈ اور سلیکشن پینل کو ان پر غور کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
امجد حسین کے مطابق شکیب نے خود ہوم اور اوے دونوں سیریز کھیلنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اپنی دستیابی کی تصدیق بھی کی ہے۔ تاہم شکیب الحسن سے اس فیصلے پر ردعمل کے لیے رابطہ نہ ہو سکا۔
The Bangladesh Cricket Board has decided to retain former captain and ex-Awami League MP Shakib Al Hasan in its central contract list and reopen the door for his return to international cricket, subject to government clearance. The decision marks the board’s first formal move… pic.twitter.com/W0P1MTXGJx
— IndiaToday (@IndiaToday) January 25, 2026
شکیب الحسن جنوری 2024 میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر مگورا-1 سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے، تاہم جولائی اور اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد حکومت کے خاتمے سے لے کر اب تک وہ ملک سے باہر ہیں۔ ان کی آخری بین الاقوامی میچ ستمبر 2024 میں بھارت کے خلاف کانپور ٹیسٹ تھا۔ 5 اگست 2024 کے بعد ان پر بنگلہ دیش میں متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن میں قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ان کی وطن واپسی قانونی طور پر غیر یقینی بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن نئی مشکل میں پھنس گئے، بولنگ ایکشن رپورٹ
سیاسی سوالات پر بات کرتے ہوئے امجد حسین نے کہا کہ اگر حکومت کسی قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ بی سی بی کا معاملہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بورڈ نے اپنے صدر کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے پر حکومت سے رابطہ رکھا جائے۔
بی سی بی کے ایک اور ڈائریکٹر آصف اکبر نے واضح کیا کہ بورڈ کی دلچسپی صرف ایک کرکٹر کی حیثیت سے شکیب میں ہے، نہ کہ ان کے سیاسی پس منظر میں۔

یاد رہے کہ شکیب الحسن نے جنوبی افریقہ کے خلاف میرپور ٹیسٹ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم سیاسی وابستگی کے خلاف احتجاج کے باعث وہ بنگلہ دیش واپس نہ آ سکے۔ بی سی بی نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ فیصلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کی عدم شمولیت پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شکیب الحسن اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے ڈھاکا جائیں گے؟
فی الحال شکیب الحسن بیرونِ ملک فرنچائز لیگز میں سرگرم ہیں اور اس وقت سعودی عرب میں جاری ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بی سی بی نے ڈائریکٹر اشتیاق صادق کے استعفے اور 27 کھلاڑیوں کو مرکزی کنٹریکٹس کے لیے زیرِ غور لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یوں اگرچہ بی سی بی نے شکیب الحسن کے لیے دروازہ دوبارہ کھول دیا ہے، مگر ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی اب بھی سیاسی اور قانونی پیچیدگیوں سے جڑی ہوئی ہے۔













