وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وادی تیراہ میں کسی بڑے فوجی آپریشن کی باتیں درست نہیں، البتہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہتے ہیں، جن کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لوگوں کے مسائل پر توجہ دیں، اور دہشتگردی ختم کرنے کے لیے وسائل بروئے کار لائیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ اب احتجاج کی کال سے لوگ تھک چکے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے۔
مزید پڑھیں: خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 خوارج ہلاک کردیے
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ جب بھی انتخابات ہوں گے تو لوگ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے، اس لیے خیبرپختونخوا حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے چاہییں۔














