حکومت پنجاب نے بسنت عمیت ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، بسنت اور مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد پنجاب کو سب کے لیے کھلا اور شمولیتی صوبہ بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں ہے کہ بسنت کو ایک 800 پرانا تہوار ہے جو پچھلے کئی سالوں سے نہیں منایا گیا، بسنت بہار کی آمد اور نئی شروعات کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا کہ حکومت پہلی بار سرکاری سطح پر بسنت کا انعقاد کرے گی، جو 6، 7 اور 8 فروری کو منعقد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: محفوظ بسنت کا عزم: مریم نواز کا موٹر سائیکل سواروں کو سیفٹی راڈز مفت فراہم کرنے کا اعلان
مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، رمضان کی تقریبات ہوں یا عید کی خوشیاں، کرسمس اور ہولی سمیت دیگر تہوار بھی جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ پنجاب کو ہر کسی کا صوبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ہر مذہب، عقیدے اور فرقے کے لوگوں کو برابر کا حصہ ملتا ہے اور ان کے تہواروں کو بھی عزت و وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بند تھا، مگر اس تہوار کی تاریخ تقریباً 800 سال پر محیط ہے اور اسے بسنت پنچمی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ بہار کے آغاز، زندگی کی تازگی اور تجدید کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’محفوظ بسنت‘: لاہور میں سخت ضوابط کے ساتھ 3 روزہ تہوار کی تیاریاں مکمل
انہوں نے بتایا کہ پنجابی ثقافت نہ صرف پنجاب بلکہ دنیا بھر میں اپنی رنگینی اور خوشی کے جشن کے طور پر پہچانی جاتی ہے، اور اسی ثقافتی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت نے بسنت کے دوبارہ منانے کا فیصلہ کیا ہے،ہر شہری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اس دھرتی کا اہم حصہ ہے۔











