سپریم کورٹ نے کرایہ داری کے معاملات میں ایک حتمی اور واضح اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خودبخود مالک بن جاتے ہیں۔
عٖدالتی فیصلے کے مطابق اس مقصد کے لیے نئے کرایہ نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ کے کرایہ داروں کی بے دخلی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔
مذکورہ ٖفیصلے میں کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے 60 دن کے اندر مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کی 2 رکنی بینچ نے سنا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب
عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے قانونی وارث کی حیثیت سے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس جاری کر کے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف بھی کیا، اس کے باوجود انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی نوٹس کے باوجود کرایہ داروں نے کرایہ قانونی وارثوں کو ادا کرنے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرانا جاری رکھا، جو قانوناً درست ادائیگی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے نوٹس دے دیا جائے تو متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ عمل جان بوجھ کر ڈیفالٹ تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت کے مطابق قانونی وارث کو کرایہ ادا نہ کرنا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا کرایہ داروں کی دانستہ خلاف ورزی ہے، اور جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار قانون کے تحت بے دخلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کرایہ داروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اور قرار دیا کہ اس طرح کی ادائیگی انہیں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔














