امریکا میں آنے والے شدید اور خطرناک برفانی طوفان نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 19 ہزار سے زائد ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
برفباری، ژالہ باری اور منجمد بارش کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں اور لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں۔
مزید خراب موسم کی پیش گوئی
امریکی نیشنل ویدر سروس (NWS) نے خبردار کیا ہے کہ یہ شدید موسمی صورتحال پیر کی صبح تک برقرار رہ سکتی ہے۔ حکام کے مطابق طوفان کے بعد آنے والی آرکٹک ہواؤں کے باعث درجہ حرارت کئی دنوں تک خطرناک حد تک کم رہے گا، جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مختلف ریاستوں میں ہلاکتیں
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی کے مطابق ہفتے کے اختتام پر شدید سردی کے دوران شہر میں 5 افراد مردہ حالت میں باہر پائے گئے۔ اگرچہ ہلاکتوں کی براہِ راست وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم انہوں نے کہا کہ انتہائی سردی کے خطرات کی اس سے بڑی کوئی یاد دہانی نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں شدید برفانی طوفان، ہزاروں پروازیں منسوخ، 18 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ
ریاست ٹیکساس میں حکام نے 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جو برف پر پھسلنے کے حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
جبکہ لوزیانا میں محکمہ صحت کے مطابق 2 افراد ہائپوتھرمیا کے باعث ہلاک ہوئے۔
بجلی کا نظام متاثر
PowerOutage.com کے مطابق اتوار کی رات تک 8 لاکھ 40 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم تھے، جن میں اکثریت جنوبی امریکا کی ریاستوں کی ہے۔
ریاست ٹینیسی میں برفانی بارش کے باعث بجلی کی تاریں گرنے سے 3 لاکھ سے زائد گھریلو اور تجارتی صارفین متاثر ہوئے۔
اسی طرح لوزیانا، مسیسیپی اور جارجیا میں بھی ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، جہاں اس نوعیت کے طوفان کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔
شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
ٹیکساس سے نارتھ کیرولائنا اور نیویارک تک مختلف ریاستوں میں حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے۔ ٹیکساس ایمرجنسی مینجمنٹ ڈویژن نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ انتہائی ضرورت کے بغیر سڑکوں پر نہ نکلیں۔
بڑے شہروں میں برف کی چادر
اتوار کے روز طوفان شمال مشرقی امریکا کی جانب بڑھا، جہاں فلاڈیلفیا، نیویارک اور بوسٹن جیسے گنجان آباد شہروں میں شدید برفباری اور ژالہ باری ہوئی۔
اب تک 20 سے زائد ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
فضائی آپریشن مکمل طور پر متاثر
واشنگٹن، فلاڈیلفیا اور نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ FlightAware کے مطابق ہفتے سے اب تک 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو طوفان کے دوران وائٹ ہاؤس میں موجود تھے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ہم طوفان کے راستے میں آنے والی تمام ریاستوں سے رابطے میں ہیں۔ محفوظ رہیں اور خود کو گرم رکھیں۔
پولر ورٹیکس کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ شدید طوفان پولر ورٹیکس کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے، جو عام طور پر قطب شمالی کے گرد محدود رہتا ہے، مگر بعض اوقات پھیل کر شمالی امریکا میں شدید سردی لے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں شدید سرمائی طوفان، 10 ہزار پروازیں منسوخ، لاکھوں افراد متاثر
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ ماحولیاتی تبدیلی سے جڑا ہو سکتا ہے، اگرچہ اس پر بحث جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے تاہم موسمیاتی تبدیلی کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب گلوبل وارمنگ کہاں چلی گئی؟
جان لیوا سردی کی وارننگ
نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے بعد ایک ہفتے تک جان لیوا سردی برقرار رہ سکتی ہے، خاص طور پر ناردرن پلینز اور اپر مڈویسٹ میں، جہاں ہوا کے ساتھ محسوس ہونے والا درجہ حرارت منفی 50 فارن ہائیٹ تک گرنے کا امکان ہے۔
اتنی شدید سردی میں چند منٹوں میں فراسٹ بائٹ ہو سکتا ہے۔













