تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں اہم کردار نبھانے والی جے یو آئی بھی مائنس کردی گئی، سینیٹر کامران مرتضیٰ

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت گرانے میں اہم کردار نبھانے والی جے یو آئی کو بھی اب پی ٹی آئی کی طرح مائنس کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری: حکومت اب کسی تعاون کی امید نہ رکھے، رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی نے تن تنہا احتجاج کا آغاز کیا تھا بعد ازاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس اتحاد میں شامل ہوئیں اور کارواں آگے بڑھتا گیا اور نتیجے میں ایک حکومت کا تختہ الٹا گیا اور نئی حکومت تشکیل دی گئی جس میں جے یو آئی بھی شامل تھی لیکن بعد میں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کو بھی مائنس کر دیا گیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب حکومتوں کے پاس عددی برتری مکمل ہو جاتی ہے تو وہ کسی اور جماعت کو اہمیت نہیں دیتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال 27ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی رہی جس میں نہ ہم سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن ہمیں اس حوالے سے اطلاع تک نہیں دی گئی۔

مزید پڑھیے: جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کو حکومتی مکاری قرار دیدیا

رہنما جے یو آئی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقعے پر جے یو آئی نے حکومت کا ساتھ ضرور دیا تھا تاہم ہم نے حکومت کی 50 سے زائد مجوزہ ترامیم کو کم کروا کے صرف 20 سے 22 ترامیم منظور ہونے دی تھیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جمیعت علما اسلام اس وقت کسی بڑے احتجاج کی تیاری اس لیے نہیں کر رہی کہ ماضی میں جے یو آئی کے احتجاج اور حکومت پر دباؤ کا فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا اور اب یہ خدشہ ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اس سے فائدہ نہ اٹھا لے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے احتجاج کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں فائدہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا جبکہ ہم لوگ باہر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق

کامران مرتضیٰ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت میں کوئی نظم و ضبط نہیں یہ محض ون مین شو ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مقبولیت بھی زیادہ نہیں بلکہ عمران خان کی ذات تک محدود ہے جبکہ جے یو آئی ایک منظم جماعت ہے جو محلے کی سطح سے شروع ہو کر اوپر تک مضبوط تنظیم رکھتی ہے اور یہ کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں گھومتی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ان کی جماعت کا ووٹ بینک ماضی میں کمزور رہا ہے تاہم فرخ کھوکھر کی شمولیت سے جماعت کو تقویت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: کیا فرخ کھوکھر کو بطور ’اے ٹی ایم‘ پارٹی میں شامل کیا؟ رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ نے واضح کردیا

انہوں نے کہا کہ فرخ کھوکھر کے خلاف کوئی مقدمہ یا کیس نہیں ہے اور وہ باقاعدگی سے 5 وقت کی نماز پڑھتے ہیں جبکہ ہم سے تو کبھی کبھار کوئی ایک نماز رہ بھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آسٹریلوی تاجر چینی جاسوسوں کو معلومات دینے کے جرم میں قصوروار قرار

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے