۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں گل پلازہ سانحے کے متاثرین کے لیے وسیع امدادی و بحالی پیکج کی منظوری دی گئی۔
دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری رپورٹ کا جائزہ لینے کی خاطر وزیراعلیٰ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔
صوبائی کابینہ نے گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں
متاثرہ دکانداروں کو فی کس ایک کروڑ روپے کے بلاسود قرضے، جبکہ فوری اخراجات کے لیے 5 لاکھ روپے امداد فراہم کی جائے گی۔
دکانداروں کو 2 ماہ کے اندر متبادل تجارتی مقامات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: کراچی کی ٹرام سروس سے گل پلازہ تک، کب کیا ہوا؟
اس مقصد کے لیے وزرا پر مشتمل ذیلی کمیٹی قائم کی گئی جو انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں کراچی میں سڑکوں کے 6 بڑے منصوبوں کے لیے 19.1 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے، جن میں اسٹار گیٹ فلائی اوور، ملیر ہالٹ انڈر پاس اور سہراب گوٹھ فلائی اوور شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بی آر ٹی ییلو لائن کی لاگت بڑھا کر 620 ملین ڈالر کر دی گئی، جبکہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے زمین کے حصول کی مد میں 30 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔
پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لیے ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک 36 کلومیٹر طویل واٹر پائپ لائن منصوبہ ایف ڈبلیو او کو دینے اور اس کے لیے 10.55 ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
حیدرآباد میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کے لیے 100 ایکڑ اراضی مختص کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔
مزید پڑھیں:گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
کابینہ نے سماجی بہبود، محنت کشوں کی فلاح، زراعت اور تعلیم سے متعلق متعدد منصوبوں کی منظوری دی، جن میں لاڑکانہ میں جدید پھل اور سبزی منڈی، منشیات بحالی مراکز کی مدت میں توسیع، اور سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی کو ختم کرنے کے فیصلے شامل ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ تمام فیصلوں پر تیز رفتاری اور شفاف انداز میں عملدرآمد کیا جائے تاکہ عوام کو عملی فائدہ پہنچ سکے۔













