سندھ کابینہ نے لا کالجز کے بورڈ آف گورنرز میں 7 غیر سرکاری اراکین کی تقرری کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پاکستان کے فلاحی شعبے کا قائد ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
یہ بات سندھ حکومت کے ترجمان نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتائی۔
ترجمان کے مطابق لیاری ایکسپریس وے سے متاثرہ افراد کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 53 متاثرین عدالت سے رجوع کرچکے ہیں اور انہوں نے مجموعی طور پر 315 ملین روپے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
سندھ کابینہ نے واضح کیا کہ لیاری ایکسپریس وے وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا تاہم اگر دعویدار عدالت میں درست ثابت ہوتے ہیں تو سندھ حکومت کسی بھی ممکنہ طریقے سے معاوضے کی ادائیگی پر غور کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی میں پانی کا سنگین بحران
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ سندھ کابینہ کو پیش کرے گی۔
شہر کی سڑکوں کی دگرگوں حالت پر اظہار تشویش
کابینہ اجلاس میں کراچی کی سڑکوں کی خراب حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہر بھر میں سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔
انفراسٹرکچر مںصوبوں کی منظوروں
سندھ کابینہ نے ایک اہم انفراسٹرکچر منصوبے کی بھی منظوری دی جس کے تحت 36 کلومیٹر طویل ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے واٹر پائپ لائن منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دیا گیا ہے۔
سندھ حکومت اس منصوبے کے لیے 10.55 ارب روپے کی لاگت سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو فنڈز فراہم کرے گی۔
مزید پڑھیں: کراچی کی شارع فیصل بارش کے پانی میں کیوں ڈوب جاتی ہے؟ حیران کب وجہ سامنے آگئی
ترجمان کے مطابق ایف ڈبلیو او ڈملوٹی پمپنگ اسٹیشن سے ڈی ایچ اے تک 36 کلومیٹر طویل واٹر سپلائی لائن بچھائے گی جس سے شہر میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔













