وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کی بات ہے، لیکن اسے بحران کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، اس وقت وہاں پر کوئی آپریشن نہیں ہورہا، تاہم انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں، جن کا اسے حساب دینا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں وادیٔ تیراہ سمیت دیگر وادیوں میں سردیوں کے دوران برف باری کے مہینوں میں مقامی افراد نقل مکانی کرتے ہیں۔ یہ ایک معمول کی روایت ہے، جسے بلاوجہ بحران کی شکل دی جا رہی ہے. وزیر دفاع خواجہ آصف pic.twitter.com/UB3qzuSbEn
— WE News (@WENewsPk) January 27, 2026
مزید پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
انہوں نے کہاکہ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، کیوں کہ یہ جگہ 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے، جہاں سخت سردی پڑتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت سارا ملبہ آپریشن پر ڈال رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں، 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں اہم امور طے پائے اور فیصلہ ہوا کہ علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، اب آپریشن سے متعلق مفروضوں سے کام لیا جارہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھیں تو اس علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانہ موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہزاروں فٹ بلندی پر واقعے ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے حاصل رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی لوگ لیتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کوئی انوکھی چیز نہیں، لیکن پی ٹی آئی نے اسے انوکھا بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیاکہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 500 لوگ موجود ہیں، ہمیں جہاں ان کے حوالے سے اطلاع ملتی ہے، قانون نافذ کرنے والے وہاں جاکر کارروائی کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کے کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، 4 سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو۔
پی ٹی آئی کی کے پی حکومت میں کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں ، 4سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو ،خواجہ آصف pic.twitter.com/bGqyw0wyve
— WE News (@WENewsPk) January 27, 2026
آفریدی قبائل کی موسمی ہجرت صدیوں سے جاری ہے: عطا تارڑ
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہاکہ تحقیقی لٹریچر میں واضح طور پر درج ہے کہ آفریدی قبائل صدیوں سے موسمی ہجرت کرتے رہے ہیں، اور یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ ایک قدیم سماجی و معاشی پیٹرن ہے، جس کا مطالعہ قبائلی تاریخ اور شائع شدہ مستند حوالوں سے ممکن ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق آفریدی قبائل سردیوں میں نشیبی علاقوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں واپس تیراہ اور ملحقہ علاقوں میں آجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس روایت کا تفصیلی ذکر ایڈورڈ برفی کی کتاب خیبر میں موجود ہے، اور 1880 میں برٹش آفیشل وزیٹر نے اس موسمی نقل مکانی کو ایک مستقل حقیقت قرار دیا۔
وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ یہ تاریخ واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات نہیں بلکہ عالمی سطح پر شائع شدہ مستند حوالوں پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی ہجرت کو موجودہ سیاسی بیانیے کے تناظر میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور ترجمانوں کی بیان بازی زمینی و تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
انہوں نے مزید کہاکہ قبائلی تاریخ کو سمجھے بغیر موجودہ صورتحال کا درست تجزیہ ممکن نہیں، اور ماضی کی مستند دستاویزات آج کے دعوؤں کی نفی کرتی ہیں۔
4 ارب روپے کہاں خرچ ہوں گے؟ اختیار ولی
اس موقع پر وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے وادی تیراہ کے متاثرین کے نام پر جو 4 ارب روپے مختص کیے ہیں وہ کہاں خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے منصوبوں کے نام پر رقم مختص کرلی جاتی ہے، اور بعد اسٹریٹ موومنٹ جیسے کاموں پر خرچ کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی تیراہ کے متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیاں جاری
انہوں نے الزام عائد کیاکہ 8 فروری کو ہونے والے احتجاج میں ان لوگوں کو بھی ایندھن بنایا جائےگا۔














