پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کی گئی کہ انہیں خان صاحب سے ملاقات کی پیشکش کی گئی اور انہوں نے ملاقات کے لیے صرف کسی فیملی ممبر یا وکیل کے ساتھ جانے کی شرط رکھی۔
بیرسٹر گوہر خان نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔
بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم سے رابطہ کیا تاکہ خبر کی تصدیق یا تردید کی جا سکے۔ انہوں نے نہ صرف تصدیق کی بلکہ ٹی وی پر بھی آ کر یہ خبر واضح کی کہ بیرسٹر گوہر خان نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی۔
یہ بھی پڑھیے بیرسٹر گوہر کا اجازت ملنے کے باوجود عمران خان کے ساتھ ملاقات سے انکار
بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ منگل کے دن اڈیالہ جاتے ہیں اور ملاقات کا وقت ختم ہونے تک وہاں رہتے ہیں، جس کے بعد پولیس کی طرف سے روکے جانے پر واپس آ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دن بھی وہ اسی معمول کے مطابق گئے اور واپس آئے۔
Yesterday news circulated on social media that I was offered to meet khan sab but refused till I was joined by a family member or another lawyer. Not at all. Therefore, I contacted PTI SecInfo Sh.Waqas to refute such news. He did and he personally appeared on TV as well. Even…
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) January 28, 2026
ملاقات کی افواہوں پر سخت موقف
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ حکومت یا جیل حکام کی جانب سے انہیں کبھی ملاقات کی پیشکش نہیں کی گئی، اس لیے کسی کے ساتھ جانے کی شرط رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے زور دیا کہ خان صاحب سے ملاقات کی خبریں اور ان سے متعلق تمام اطلاعات بہت سنجیدہ نوعیت کی ہیں اور انہیں صرف تصدیق شدہ ذرائع سے رپورٹ کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے مذاکرات کے لیے محمود اچکزئی اگر عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے ہٹے تو بھی قبول ہوگا، بیرسٹر گوہر
انہوں نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، وی لاگرز، یوٹیوب کے مواد بنانے والوں اور مین اسٹریم میڈیا سے اپیل کی کہ وہ خان صاحب سے متعلق خبریں صرف مستند اور تصدیق شدہ معلومات کے بعد ہی شائع کریں۔
گوہر خان نے کہا کہ میڈیا اور عوام کو چاہئے کہ خبریں شائع کرنے سے پہلے ہمارے سیکریٹری اطلاعات سے تصدیق حاصل کریں تاکہ افواہوں کی بنیاد پر غلط فہمی نہ پیدا ہو۔














