جب قائم علی شاہ نے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گل پلازہ کرپشن کیس ختم کروا دیا

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ سال 2010 کی بات ہے جب کراچی کی خصوصی اینٹی کرپشن عدالت نے طویل عرصے سے زیرِ التوا گل پلازہ کرپشن کیس کا ڈراپ سین کرتے ہوئے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (کے بی سی اے)  کے سابق سربراہ اے ایس ناصر اور بلڈنگ کنٹرولرز سمیت تمام 12 ملزمان کو بری کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حکومتِ سندھ نے اچانک مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا، جس پر عدالت نے استغاثہ کی درخواست منظور کی۔

قانونی موڑ اور حکومت کا کردار

کیس میں اس وقت غیر متوقع موڑ آیا جب سرکاری وکیل محمد عارف ستائی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 494 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مقدمہ واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق

صوبائی حکومت کی جانب سے اس بابت باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد جج راشدہ اسد نے تمام ملزمان کو الزامات سے پاک قرار دے دیا۔

الزامات کی نوعیت اور ماضی کی کارروائی

یہ مقدمہ 2005 میں درج کیا گیا تھا (FIR 56/2005)، جس کے مطابق کے بی سی اے کے افسران نے گل پلازہ کے مالک گل محمد خانانی کے ساتھ ملی بھگت کر کے پارکنگ کے لیے مخصوص جگہ پر دکانوں کی تعمیر کی غیر قانونی اجازت دی تھی۔

 استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ لاکھوں روپے کے عوض غیر قانونی بلڈنگ پلان کی منظوری دی گئی، سرکاری دستاویزات میں رد و بدل اور جعلی کاغذات کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد رشوت ستانی اور امانت میں خیانت کی دفعات PPC 161، 409، 420 وغیرہ شامل کی گئیں۔

بریت سے قبل کا طویل ٹرائل

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بریت سے قبل ملزمان نے کئی بار بریت کی کوششیں کیں۔ سابق چیف اے ایس ناصر کی جانب سے دفعہ 249-A کے تحت دائر درخواستیں ماضی میں کئی بار مسترد ہوئیں، اور عدالت نے اسے وقت ضائع کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ایک مرحلے پر سابق جج سید گل منیر شاہ نے تمام ملزمان پر فردِ جرم بھی عائد کی تھی، جہاں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے ٹرائل کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلم بند ہونے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل ہی حکومت کی جانب سے مقدمہ واپسی کی درخواست نے برسوں سے جاری اس قانونی جنگ کا خاتمہ کر دیا۔

بری ہونے والے نمایاں افراد

بری ہونے والوں میں بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر کے علاوہ سابق سینئر بلڈنگ کنٹرولر اخلاق احمد، علی ظفر قادری، ممتاز حیدر، محمد فہیم، جعفر امام، محی الدین شریف، حوا بائی، اور پلازہ کے مالک گل محمد خانانی شامل ہیں۔

 یہ کیس کراچی کے کمرشل انفراسٹرکچر اور ریگولیٹری اداروں میں سیاسی مداخلت کی ایک مثال ہے، جہاں ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی ایگزیکٹو پاور کا استعمال کر کے راستہ صاف کر دیا گیا۔

’گل پلازہ کا پلاٹ واقعی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوا تھا‘

اس کیس میں پیش ہونے والے اس وقت کے پبلک پراسیکیوٹر عارف ستائی نے وی نیوز کو بتایا کہ گل پلازہ کا پلاٹ واقعی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوا تھا، ایس بی سی اے نے غلط اپروولز دیں، گل پلازہ کی پارکنگ کی جگہ کو بھی غلط استعمال کیا گیا، وہاں بھی دکانیں بنائی گئیں، اے ایس ناصر الدین اس کیس کا مرکزی ملزم تھا۔

عارف ستائی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کافی عرصہ تک التوا کا شکار رہا، یہاں تک کہ ہم نے محکمہ کو خطوط بھی لکھے تھے، لیکن پھر حکومت سندھ کی جانب سے ایک درخواست آئی تھی جس کے بعد یہ کیس ختم ہوا، حکومت سندھ کی جانب سے اس کیس میں وِدڈرال کی اپروول آئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟