سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرالیا، 2 دہشتگرد ہلاک

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرا لیا، جبکہ کارروائی میں بی ایل اے کے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاتون کے اغوا کے فوری بعد ناکہ بندی کرکے سرچ آپریشن شروع کیا۔

مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، خاران بینک ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ بی ایل اے کمانڈر ہلاک

 تربت کے قریب ایک ناکے پر مشکوک کرولا گاڑی کی نشاندہی کی گئی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے فورسز نے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، اور نرگس نامی خاتون کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرا لیا گیا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق نرگس نے بی ایل اے کے لیے کام کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد اسے اغوا کیا گیا۔

واضح رہے بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالچا میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں نے ایک بلوچ خاتون کو اغوا کیا تھا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے اور پولیس مغویہ کی بازیابی کے لیے متحرک ہو گئے تھے، اور بالآخر کامیابی مل گئی۔

واقعہ بدھ کے روز شام ساڑھے 4 سے پونے 5 بجے کے درمیان پیش آیا، جب ایک کرولا گاڑی ایک گھر کے سامنے آ کر رکی۔ گاڑی میں سوار مسلح افراد نے نرگس نامی خاتون کو زبردستی اغوا کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا اور ناصرآباد کے قریب گاڑی کو روک لیا، تاہم اس دوران گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف لے کر باہر آ گیا۔

شوہر کی مزاحمت کے باوجود پیچھے سے 2 موٹر سائیکلیں آ گئیں جن پر بی ایل اے کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ موٹر سائیکل سواروں نے خاتون کے شوہر پر تشدد کیا، اس کے اور بھتیجے کے موبائل فون چھین لیے اور خاتون کو زبردستی ناصرآباد کے جنگلات کی طرف لے گئے۔

بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا، کم عمر بلوچ بچی کو سوشل میڈیا کے ذریعے خودکش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ