سعودی عرب کے میڈیا وزیر سلمان الدوسری نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ تہنون بن زاید کو سعودی عرب میں داخلے سے روکنے کی کوئی بات درست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای کا یمن سے انخلا سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد ثابت ہوگا، سعودی وزیر خارجہ
وزیر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ جو کچھ گردش کر رہا ہے کہ سعودی عرب نے شیخ تہنون بن زاید کو داخل ہونے سے روک دیا، یہ غلط ہے۔ یو اے ای کی کوئی اعلیٰ شخصیت جب چاہے بغیر اجازت آ سکتی ہے، یہ ان کا گھر ہے اور اس کی قیادت ان کا خاندان ہے۔

یاد رہے کہ شیخ تہنون ابوظہبی کے نائب حاکم اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے بھائی ہیں اور خلیجی سفارت کاری میں ایک اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ ولی عہد فیصل بن فرحان نے کہا کہ اگرچہ یمن کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافِ رائے رہا ہے، لیکن دو طرفہ تعلقات خطے کی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمن سے متحدہ عرب امارات کے انخلا نے تعلقات کو مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کی ہے اور سعودی عرب ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کا خواہاں ہے، کیونکہ یہ خطے میں ایک اہم شراکت دار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی یو اے ای کے قومی دن ’عیدالاتحاد‘ کی تقریب میں شرکت، کیک کاٹا
یہ وضاحت یمن میں واقعہ کے بعد سامنے آئی جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے اپنے فوجی انخلا کی درخواست کی تھی، کیونکہ جنوبی عبوری کونسل (STC) نے ملک کے جنوب اور مشرق میں بڑے علاقے قبضے میں لے لیے تھے۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے دسمبر کے آخر میں STC کے لیے اسمگل شدہ ہتھیاروں کے حملوں پر محدود فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے دو جنوری کو یمن سے مکمل انخلا مکمل کر لیا۔













