بھارتی سپریم کورٹ نے اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مزید پڑھیں: ایام حیض کی ‘غربت’ لڑکیوں کی تعلیم کیسے متاثر کرتی ہے؟
جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس آر مہادیون کے ڈبل بینچ نے کہا کہ حیض سے متعلق صحت کا حق، حقِ زندگی کا لازمی حصہ ہے اور ریاست اس سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے ریاستوں کو اسکولوں میں طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلا اور معذور افراد کے لیے موزوں سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے سختی سے کہا کہ نجی اسکول ہدایات پر عمل نہ کریں تو ان کی منظوری منسوخ کی جا سکتی ہے، اور حکومتیں اگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو جواب دہ ٹھہریں گی۔
مزید پڑھیں: چُپ کی عمر: دیہی خواتین اور سن یاس کے گرد پھیلی خاموشی
عدالت نے دیہی و شہری اسکولوں میں مینسٹرول ہائیجین مینجمنٹ کارنرز قائم کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ طالبات کو محفوظ اور باوقار ماحول میسر ہو۔ یہ حکم جیا ٹھاکر کی دائر کردہ عوامی مفاد کی عرضی پر دیا گیا، جس میں ملک بھر میں اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے حیض سے متعلق حفظانِ صحت پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔













