قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر نے بھارت کی جانب سے آئین کی دفعات 370 اور اے 35 کے خاتمے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراج تحسین پیس کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں
’کشمیری عوام آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔‘
قرارداد میں بھارتی غیر قانونی قبضے کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری طویل جبر، ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔
The House adopted a resolution moved by the Federal Minister and Chairman of the Parliamentary Committee on Kashmir, Rana Muhammad Qasim Noon, reaffirming that Jammu & Kashmir remains an unresolved international dispute and that the people of Jammu and Kashmir continue to be… pic.twitter.com/2wRKxa1YIY
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) February 3, 2026
کمیٹی نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے ظلم و ستم کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی قابلِ تحسین ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ، معزز عمران حسین کی موجودگی کو سراہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں مؤثر انداز میں اجاگر کرنے پر ان کی مسلسل اور اصولی کاوشوں کی تعریف کی۔
قرارداد میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر ہونے والی بحث کو عالمی سطح پر آگاہی کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: بیلجیم کے عالمی شہرت یافتہ فوٹو جرنلسٹ کی کشمیر پر تصویری کتاب کی نمائش کا آغاز
قرارداد میں نومبر 2025 میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کے خصوصی مینڈیٹ ہولڈرز کی رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیٹی نے بھارت کے کالے قوانین، پبلک سیفٹی ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون سمیت آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو سیاسی اختلافِ رائے دبانے اور بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے غیر قانونی اور امتیازی طور پر استعمال کرنے کی سخت مذمت کی۔
پارلیمانی کمیٹی نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آئین کی دفعات 370 اور اے 35 کے خاتمے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
مزید پڑھیں: بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، احتجاجی ریلیاں، جدوجہد آزادی جاری رکھنے کا عزم
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بھارت فوری طور پر ان غیر قانونی اقدامات کو واپس لے اور مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی، سیاسی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے سے باز رہے۔
قرارداد میں بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد یا ظاہری اصلاحات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حتمی حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔
کمیٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کی جائیں، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
مزید پڑھیں: سری نگر: مساجد میں پولیس سروے، کشمیری مسلمانوں میں خوف اور تشویش
ساتھ ہی اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
قرارداد میں مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر تیسرے ملک میں ثالثی کی ابتدائی پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا۔
پارلیمانی کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ اور ایک ’اقدامِ جنگ‘ قرار دیا۔
کمیٹی نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے جائز حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کی خواہشات کی تکمیل تک ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔













