لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دو روز تک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج رہنے کے بعد اب انہیں اسپتال ہی کے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسپتال میں داخلے کی وجہ
الطاف حسین کو اتوار کی شب لندن کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق انہیں شدید جسمانی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔ اسپتال منتقلی کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر خون کی منتقلی کی اور آئی وی ڈرپ لگائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
ذہنی دباؤ اور کمزوری
لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق الطاف حسین کی علالت کی بڑی وجہ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی جیو پولیٹیکل صورتحال، لندن میں جاری قانونی مقدمات اور مالی مشکلات کے باعث شدید ذہنی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق الطاف حسین دن میں مسلسل 18 سے 20 گھنٹے تنظیمی امور میں مصروف رہتے ہیں، جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔
طبی صورتحال اور ڈاکٹروں کی رائے
سابق رکن قومی اسمبلی اور رابطہ کمیٹی کے رکن محمد کمال ملک کا کہنا ہے کہ خون کی منتقلی کے بعد الطاف حسین کی حالت پہلے سے بہتر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم وہ اب بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اسپتال میں ہی موجود ہیں۔ ان کے مطابق بانی ایم کیو ایم کو معمول کے چیک اپ کے لیے اسپتال لایا گیا تھا، جہاں مختلف ٹیسٹوں کے بعد خون کی کمی سامنے آئی، جس کے باعث خون کی منتقلی ضروری ہو گئی۔

محمد کمال ملک نے مزید کہا کہ بانی ایم کیو ایم عمر کے جس حصے میں ہیں اس میں مناسب خوراک بے حد ضروری ہوتی ہے، کیونکہ خوراک کی کمی خون کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق الطاف حسین کو کوئی مخصوص بیماری لاحق نہیں، بلکہ عمر کے اس مرحلے میں عمومی کمزوری کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی ایم کیو ایم الطاف حسین طبیعت بگڑنے پر اسپتال میں داخل
یہ پہلا موقع نہیں کہ الطاف حسین کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ سال بھی جولائی اور اگست کے دوران وہ دو مرتبہ اسپتال میں داخل رہے تھے، جہاں انہیں سینے کے انفیکشن اور شدید فلو کی شکایت تھی۔














