مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی ریاستی حکومتیں ان حملوں میں ملوث عناصر کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے یہ بات کہی، جس میں اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں ایک بزرگ کشمیری شہری کو ہراساں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
قانون کی حکمرانی کی جگہ خوف کی سیاست
محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہاکہ قانون کی حکمرانی کی جگہ اب خوف کی سیاست نے لے لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کو بھارت میں منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
منتخب نمائندوں کی خاموشی پر سوالات
پی ڈی پی سربراہ نے بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ارکانِ اسمبلی اور پارلیمنٹ پر بھی سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر کے وہ اراکینِ پارلیمنٹ کہاں ہیں جو آواز اٹھائیں، جب کشمیریوں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے بھارت میں کشمیریوں کو مسلسل ہراسانی کا سامنا، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بھی چیخ اٹھا
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی خاموشی کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
اتراکھنڈ میں نوجوان کشمیری پر تشدد کا حوالہ
محبوبہ مفتی نے اتراکھنڈ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا بھی ذکر کیا، جہاں ایک نوجوان کشمیری تابش کو مبینہ طور پر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔
کشمیریوں پر حملوں کا معاملہ بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا، جہاں کئی ارکان نے نئی دہلی کی جانب سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز چسپاں
ارکان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحان مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔













