پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹر مشال یوسفزئی کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ان کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے خلاف کسی بھی قسم کی نامناسب زبان قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان اور مشال یوسفزئی کے مابین بیانات کی جنگ کیسے شدت اختیار کر گئی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشال یوسفزئی کے بیانات پر اندرونی سطح پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور انہیں جلد شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا، جس کے تحت ان سے وضاحت طلب کی جائے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کی بہنوں یا خاندان کے خلاف زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بہت ہو چکا، ایسے طرزِ عمل کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے خلاف جملے کسے گا تو اس کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی سیاسی جماعت میں اختلافات ہونا فطری بات ہے اور ہر سیاسی کارکن کو اختلاف کا حق حاصل ہے، مگر ذاتی حملے ناقابلِ قبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مشال یوسفزئی نادیہ صبوحی سے معافی مانگیں گی؟
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے خلاف بولنے والا شخص پارٹی کا حصہ نہیں رہے گا، اور اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔














