پتنگ بازی کا کبھی شوق نہیں رہا۔ کچھ سالوں سے دل ہلے گلے پر بھی مائل نہیں ہوتا۔ بڑی سے بڑی تفریح دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھانا یا سونے سے چند لمحے پہلے فیس بک دیکھنا ہوتا ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے چند ماہ پہلے بسنت کا اعلان کیا تو سوچا کہ یہ بھی تخت لاہور کے کئی سابق فرماں رواؤں کی طرح عوام کے حقیقی مسائل اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو بوکاٹا کے شور میں دبانے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ تو خیر اب بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بسنت منانے کے پیچھے جہاں دیگر بہت سی وجوہات تھیں وہاں ایک یہ بھی تھی کہ 8 فروری کے احتجاج کو بسنت کی مضبوط ڈور سے کاٹ دیا جائے اور عوام کے لیے رونق میلہ لگا کر اپنی حکومت کی دھاک بٹھانے کی راہ نکالی جائے۔
یہ اور بات کہ پی ٹی آئی کے ترچھے دماغ اس ایونٹ پر بھی کچھ الگ کر کے اپنا آپ منوانے کے اچھوتے خیالات ترتیب دے رہے ہیں اور شاید کسی نہ کسی آسمان پر اپنی پتنگیں اڑانے میں کامیاب ہو ہی جائیں۔
لیکن جو سماں پنجاب حکومت نے لاہور میں باندھ دیا ہے اور جس انداز سے لاہوریوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ مثالی ہے۔
برسوں بعد ایسا لگا ہے کہ ہمارے پاس بھی خوش ہونے کا کوئی موقع ہے، ہماری ثقافت میں بھی رنگ بھرے ہیں، ہم بھی کسی بات پر مسکرا سکتے ہیں، کھلکھلا سکتے ہیں، گنگنا سکتے ہیں اور محو رقص ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ڈھول کی تھاپ، ہمارے پاؤں کے گنگھرو، ہماری چھتوں پر بھنگڑے، ہمارے ریستورانوں میں چانپوں کی خوشبو، ہماری گلیوں میں زرق برق لباس اور ہمارے آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں نے ہمارے دہائیوں پر مشتمل دکھوں کو کچھ لمحوں کے لیے دیس نکالا دے دیا ہے۔
آج کراچی سے خیبر اور نیلم سے واہگہ تک ہر کوئی بسنت کی بات کر رہا ہے اور ہر کوئی جشن کی بات کر رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ ابھی پچھلے ویک اینڈ پر دشمن نے اپنے سینکڑوں زرخوروں کو ہمارے بلوچستان پر حملے کے لیے بھیجا تھا اور بفضل خدا ہم نے ان تمام کو جہنم واصل کیا لیکن اس میں ہماری مٹی کے کچھ بیٹے بھی واری ہو گئے۔
یہ بھی سچ ہے کہ دشمن کے پالتو صوبہ خیبر پختونخوا میں آئے روز دھماکے اور حملے کر کے ہمارا سکون برباد کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور جہالت جیسے مسائل آئے روز ہمیں اپنی لپیٹ میں لیے رکھتے ہیں۔ سیاسی طور پر بھی ہم ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کے لیے صبح شام تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔
لیکن یہ بسنت کا جو رنگ پھیلا ہے اس نے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی، سرشاری کا ایک احساس بیدار کیا ہے۔ اس نے اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنی زمین پر فخر کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔
حکومت پنجاب اور مریم نواز نے جس طرح سے لاہور کو سجایا ہے، اور جس طرح ملک بھر سے لوگ جوق در جوق لاہور کا رخ کر رہے ہیں اس نے وقتی طور پر تمام مسائل بھلا دیے ہیں۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف جہاں احتجاج سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہیں اس نے بسنت کی مخالفت بھی نہیں کی۔ اس کی وجہ بے شک سیاسی ہی کیوں نہ ہو لیکن اس نے عوام کو خوش ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اور احتجاج کے ساتھ بسنت منانے اور بسنت کو اپنی آواز اٹھانے کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کر کے میچورٹی کا ثبوت دیا ہے۔
بلاشبہ مریم نواز اور ان کی حکومت بسنت کے انعقاد پر کریڈٹ اور مبارکباد کی مستحق ہیں لیکن پی ٹی آئی کے اس طرز عمل کو بھی سراہے جانے کی ضرورت ہے جس نے عوام کی خوشی میں رکاوٹ ڈالنے سے اجتناب کیا ہے۔
البتہ عمران خان کی تصاویر اور 804 نمبر والی گڈیاں بنانے، پکڑنے اور اڑانے کا جو پیچا حکومتی اداروں اور پی ٹی آئی متوالوں میں پڑا ہوا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے اور جشن کے اس ماحول میں ذرا مختلف رنگ کا اضافہ کر رہی ہے۔
بحیثیت مجموعی اس وقت لاہور اور اس کی گلیاں پاکستانیوں کو برسوں بعد پاکستانی ثقافت پر فخر کرنے اور مخمور ہونے کا موقع فراہم کر رہی ہیں جو کہ انتہائی عمدہ ہے۔
ایک اور اچھی خبر آج پشاور سے بھی آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر ایک میز پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے مل کر دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کا عہد کیا ہے۔
اللہ تعالٰی میرے وطن میں ہر روز ایسے مواقع لائے جہاں ہم دشمن کے ارادے خاک میں ملانے کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور خوشیاں منانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔
ہمیں اپنے آسمان کو رنگنے کے لیے ایک دوسرے کی پتنگیں کاٹنے کی ضرورت نہیں بلکہ مل جل کر اپنے وطن کی ڈور کو اتنا مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو اس کو اقوام عالم کے آسمان پر سب سے اونچا اڑائے۔
سب کو جشن بسنت مبارک!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













