وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جبکہ اب تک 30 سے زیادہ افراد کے جان بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے جبکہ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
مزید پڑھیں:کچہری خودکش دھماکا، اسلام آباد بار کونسل و بار ایسوسی ایشن کی مذمت، 3 روزہ سوگ کا اعلان
ترجمان کے مطابق پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے اور زخمیوں کو ان اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
*وفاقی دارالحکومت دھماکہ/ضلعی انتظامیہ بیان*
اسلام آباد میں ہوئے دھماکے کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے، اب تک مختلف ہسپتالوں میں 15 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے، پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے، اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف ہسپتالوں میں زخمیوں…
— DC Islamabad (@dcislamabad) February 6, 2026
ترجمان پمز کے مطابق ای ڈی پمز کی ہدایت پر مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سنٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اسلام آباد میں جو خودکش حملہ ہوا، وہ ان لوگوں پر کیا گیا جو اللہ کی رضا کے لیے مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے آئے تھے۔ جو لوگ مسجدوں پر حملہ کرتے ہیں، ان کا نہ اسلام سے تعلق ہے اور نہ انسانیت سے۔ یہ مسلمانوں کے دشمن ہیں مولانا طاہر اشرفی pic.twitter.com/C9IDkPa71o
— WE News (@WENewsPk) February 6, 2026
اسلام آباد دھماکا: فتنہ الخوارج کا پرانا فرقہ وارانہ ایجنڈا ایک بار پھر بے نقاب
اسلام آباد میں مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ فتنہ الخوارج (FAK) کے اس دیرینہ ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ نفرت کے ذریعے تشدد، خوف اور عدم استحکام پھیلانا ہے۔ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا کسی بھی طور مزاحمت نہیں بلکہ معصوم شہریوں میں خوف پھیلانے کی کھلی دہشتگردی ہے، جس کا ہدف مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔
ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج کی کارروائیوں کا تسلسل ایک واضح حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت مذہبی اقلیتوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جاتی ہے۔ یہ گروہ جانتا ہے کہ فرقہ وارانہ زخم گہرے ہوتے ہیں اور انہیں افراتفری پھیلانے کے لیے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ حملہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ میں سرحد پار دہشتگردی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں ٹھوس شواہد کے ساتھ واضح مؤقف پیش کیا۔ پاکستان کا یہ پیغام دو ٹوک اور حقائق پر مبنی تھا، جسے عالمی برادری نے سنا۔
مزید پڑھیں: سوئٹزرلینڈ کے کرانس مونٹانا میں نیو ایئر نائٹ پر دھماکا، 40 افراد ہلاک، متعدد زخمی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا وقت ایک مانوس ردِعمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب دہشتگرد نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھتا ہے تو ان کے پراکسی گروہ اپنی موجودگی اور اہمیت جتانے کے لیے پرانے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہیں۔ فرقہ وارانہ اہداف کا انتخاب اسی لیے کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر توجہ، خوف اور سنسنی پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں اٹھائے گئے مؤقف کے بعد افغانستان کی جانب سے سامنے آنے والے واقعات بھی اسی تشویشناک پیٹرن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشتگردی اور سرحد پار نقل و حرکت کے خدشات کو حل کرنے کے بجائے تشدد کو سرحدوں سے باہر پھیلنے دیا گیا، جس کا فوری نشانہ مذہبی برادریاں بنیں۔
یہ حملہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی بھی توثیق کرتا ہے کہ سرحد پار نیٹ ورکس سے جڑی دہشتگردی بدستور ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ گروہ خود رو کارروائیاں نہیں کرتے بلکہ ایسے وسیع تر نظاموں میں کام کرتے ہیں جہاں ان کی نقل و حرکت، منصوبہ بندی اور نظریاتی سرپرستی کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا برداشت کیا جاتا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ دھماکے کی شدید مذمت، ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی اور کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں گیس لیکج دھماکا، دلہا دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق 11 زخمی
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست ایسے عناصر کے خلاف پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے گی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا اسلام آباد دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید رنج کا اظہار کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
صدر آصف علی زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ریاست شرپسند عناصر کے خلاف پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے گی۔
مریم نواز شریف کا اسلام آباد دھماکے پر اظہارِ افسوس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے المناک دھماکے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر اور ہمت عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں: بنوں: ’کھلونا بم‘دھماکا، 2 لڑکے زخمی
مریم نواز نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ اللّٰہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
Deeply saddened by the tragic blast at an Imambargah in Islamabad. My heart goes out to the victims and their families during this painful time. Prayers for the swift recovery of the injured, and may Allah grant patience and strength to all those affected. Ameen.
اللّٰہ پاکستان…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 6, 2026
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ دل متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے غمگین ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مشکل گھڑی میں سب کو استقامت عطا کرے۔
’ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے‘، وزیراعظم آزاد کشمیر نے خودکش دھماکے کی شدید مذمت
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے بھی خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی۔ انہوں نے شہید ہونے والے شہریوں کی بلندی درجات کے لیے بھی دعا کی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مساجد کو نشانہ بنانا انسانیت اور دین اسلام پر حملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا بھی اظہار کیا۔
وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی دھماکے کی مذمت
وفاقی وزیر مذہبی امور نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا انسانیت اور دین اسلام پر کھلا حملہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں اور ایسے عناصر اور ان کے اقدامات کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی گئی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے فتنۃ الخوارج جیسے دہشتگرد عناصر کو قوم کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کی سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور علما اور مذہبی قیادت اس معاملے میں متحد ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی شہزاد ٹاؤن اسلام آباد خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کی پاکستان تحریک انصاف شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس سفاکانہ حملے میں درجن سے زائد افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
مرکزی شعبہ اطلاعات سے جاری بیان کے مطابق عبادت گاہ کو نشانہ بنانا نہایت بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی ہے جو دہشتگردوں کی درندگی اور پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازش ہے۔
مزید پڑھیں: ڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر دھماکا، 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
پاکستان تحریک انصاف دہشتگردی اور اس کے پیچھے موجود تمام عناصر کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف اس افسوسناک سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی، مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کیلئے دعا گو ہے اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
پارٹی زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کیلئے دعا کرتی ہے اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ دہشتگردی کے اس بڑھتے ہوئے ناسور کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ پاکستان میں امن، برداشت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کا پمز ہسپتال دورہ، زخمیوں کی عیادت
اسلام آباد میں پیش آنے والے دھماکے کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد زخمیوں کی عیادت کے لیے پمز ہسپتال پہنچ گئے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں زیرِ علاج زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین اور فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
Outraged and heartbroken by the horrific attack at Imambargah in Islamabad during Friday prayers. My thoughts and prayers are with those killed and injured and their families. Such violence is abhorrent. We stand with Pakistan.
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) February 6, 2026
یو کے ہائی کمشنر کا ردعمل، پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان
اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امامبارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے پر برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شہدا اور زخمیوں کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کیں اور اس پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
اسلام آباد امام بارگاہ سانحے پر سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی کا ویڈیو بیان
شیخ وقاص نے کہا: “ایک طرف دشمن نے دل پر گہرا زخم لگایا، نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملے کے ذریعے نمازیوں کے خون سے امام بارگاہ کی دیواریں رنگین کر دی گئیں۔
دوسری جانب، پنجاب حکومت اور اس کے ترجمان بسنت کا جشن مناتے نظر آ رہے ہیں، جو شہداء کے غم کو اور بھی گہرا کر رہا ہے۔”
یورپی یونین کا بیان
یورپی یونین نے اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی خبر سن کر ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے، یورپی یونین ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی سخت مذمت کرتی ہے۔
Horrific news about the attack at Imam Bargah in Islamabad. Our deepest condolences and thoughts are with the victims, those injured and their families. https://t.co/yWfcO1AxB6
— Alex Berg von Linde (@SwedenAmbPK) February 6, 2026
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
سویڈن کے سفیر کیا بیان
سویڈن کی پاکستان میں سفیر الیگزینڈرا برگ وون لنڈے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے حملے کی ہولناک خبر پر ہمیں گہرا دکھ ہوا ہے، ہماری گہری تعزیت اور ہمدردیاں شہدا، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
کینیڈا کی دھماکے کی مذمت
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے کی خبر سن کر انتہائی افسوس ہوا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔
Horrified to learn of the bombing at a mosque near Islamabad, Pakistan that has killed at least 31 people, and injured over 150 more.
Canadians are keeping the people of Pakistan, the victims, wounded, and their loved ones in our thoughts today.— Mark Carney (@MarkJCarney) February 6, 2026
آج کینیڈا کے عوام پاکستان کے عوام، شہداء، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں اور خیالات میں یاد رکھے ہوئے ہیں۔














