پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے اندوہناک خودکش حملے کو وفاقی حکومت کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے استعفوں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق یہ سانحہ نہ صرف سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں حکومتی اداروں کی مسلسل غفلت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
سانحے پر اظہارِ افسوس اور جانی نقصان
پاکستان تحریک انصاف ترلائی امام بارگاہ اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگرد حملے پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر پارٹی نے شہدا کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
ذرائع ابلاغ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق اس سفاکانہ حملے میں کم از کم 31 افراد شہید جبکہ 169 نمازی زخمی ہوئے، جو ایک بڑا قومی سانحہ ہے۔
سیکیورٹی ناکامی اور حکومتی ذمہ داری
اسلام آباد جیسے حساس اور وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کا دہشتگرد حملہ ہونا حکومتی سیکیورٹی ڈھانچے پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سے قبل نومبر 2025 میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بھی 12 افراد شہید ہوئے تھے، مگر افسوس کہ ان واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق اس سانحے کی براہِ راست ذمہ داری وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے محرومی کے باوجود شہریوں کا تحفظ حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں مسلسل ناکامی ناقابل قبول ہے۔
سیاسی کریک ڈاؤن اور سیکیورٹی پر اثرات
حالیہ دنوں میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی 8 فروری کی کال کے باعث حکومتی وسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ عوام کے تحفظ کے بجائے تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن پر مرکوز رہی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد دھماکے کا جواب پوری قوت سے دیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف
پارٹی کے مطابق جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں کے بجائے پرامن سیاسی سرگرمیوں کو دبانے میں مصروف ہوں تو ایسے المناک سانحات جنم لیتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سانحے کے بعد پی ٹی آئی قیادت پمز اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے لیے موجود تھی، جبکہ اسی دوران اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری نے پی ٹی آئی رہنما علی بخاری کے گھر پر چھاپہ مارا۔ ایسی کارروائیوں کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر آئی جی اسلام آباد کو عہدے سے ہٹایا جائے اور وفاقی وزیر داخلہ سے استعفیٰ لیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس افسوسناک سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔














