بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم سے قبل الیکشن کمیشن نے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے ایک غیر معروف غیر سرکاری تنظیم کو دیے گئے ہزاروں انتخابی مبصر کارڈز معطل کر دیے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف انتخابی شفافیت سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ الیکشن کمیشن کے جانچ پڑتال کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے پیپلز ایسوسی ایشن فار سوشل ایڈوانسمنٹ (پاشا) نامی ایک غیر معروف این جی او کو جاری کیے گئے 10 ہزار سے زائد انتخابی مبصر کارڈز عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تنظیم کی عملی صلاحیت اور استعداد کی تصدیق نہ ہو سکنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ہفتے کی رات دارالحکومت ڈھاکا میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جامونا کے باہر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ چیف ایڈوائزر کے ڈپٹی پریس سیکریٹری محمد ابوالکلام آزاد مجمدار نے الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اختر احمد کے حوالے سے بتایا کہ انتخابی تیاریوں کے جائزے کے دوران اس معاملے پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر کا انصاف پر مبنی نظام اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور
الیکشن کمیشن کے مطابق پاشا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک بھر میں دس ہزار سے زائد مقامی انتخابی مبصر تعینات کرے گی، تاہم جانچ پڑتال کے بعد کمیشن تنظیم کی اس صلاحیت سے مطمئن نہ ہو سکا۔ اسی بنیاد پر مبصر کارڈز کی تقسیم روک دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال تنظیم کے کسی سیاسی جماعت سے تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب معروف اخبار پرتھم آلو نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاشا عملی طور پر ایک ہی فرد کے زیر انتظام ہے۔ رپورٹ کے مطابق تنظیم کا دفتر اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید ہمایوں کبیر کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں قائم ہے اور وہی اس کے واحد فعال رکن ہیں۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن کے جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد کمیشن نے تنظیم کی رجسٹریشن اور فیلڈ سطح پر صلاحیت کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق اس جائزے میں سنگین خدشات سامنے آئے، جس پر مبصر کارڈز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پاشا کی منظوری مستقل طور پر منسوخ کی جائے گی یا نہیں، تاہم مزید چھان بین جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔













