لاہور میں 25 سال بعد بسنت کی واپسی پر شہر بھر میں خوشی اور جوش و خروش کی فضا قائم ہے۔ بسنت کے مناظر دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے آج عید کا دن ہو، اور بسنت و عید کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہا۔
ہر طرف رنگ ہی رنگ بکھرے نظر آ رہے ہیں اور شہری بڑی تعداد میں اس تہوار کو انجوائے کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشکل مگر تاریخی فیصلہ
وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے پرائس اینڈ کنٹرول سلمیٰ بٹ نے کہا ہے کہ بسنت کی بحالی ایک مشکل فیصلہ تھا، مگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر دکھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عوام کی خوشیوں اور ثقافتی روایات کی بحالی کے لیے اٹھایا گیا ایک تاریخی قدم ہے۔
بسنت منانے کا ویژن نواز شریف کا تھا
سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ بسنت منانے کا ویژن سابق وزیر اعظم نواز شریف کا تھا، جسے اب عملی شکل دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تہوار لاہور کی پہچان اور ثقافت کا اہم حصہ ہے، جسے دوبارہ زندہ کرنا وقت کی ضرورت تھی۔
رنگ برنگے کپڑے، شہر میں تہوار کا سماں
بسنت کی مناسبت سے شہریوں نے خصوصی طور پر رنگ برنگے کپڑے سلوائے ہیں۔ چھتوں، گلیوں اور بازاروں میں خوشیوں کا سماں ہے، جبکہ ہر عمر کے افراد اس تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
سلمیٰ بٹ نے مزید کیا کہا، جانیے اس عارف ملک کی اس ویڈیو رپورٹ سے













