ایران سے مذاکرات اور میزائل پروگرام: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

اتوار 8 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری اور ممکنہ مذاکرات، اس کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملات پر دوبارہ سفارتی رابطے شروع ہو چکے ہیں۔

جمعے کے روز ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ جوہری مذاکرات ہوئے۔ دونوں فریقین نے کہا ہے کہ یہ بات چیت جاری رہے گی اور جلد مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق، جسے تہران نے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ سفارتکار کے مطابق مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

ایران کا میزائل پروگرام: سرخ لکیر

ایرانی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت قابلِ قبول نہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے پاس میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے وہ اپنی دفاعی ضرورت قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران مذاکرات پر ٹرمپ کا خوشگوار اشارہ، امریکا کے پاس کافی وقت ہے، صدر کا مؤقف

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم کا ماننا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں اور ایران کے حمایتی نیٹ ورک (ایرانی محور) کی مدد روکنا لازمی ہونا چاہیے۔

نیتن یاہو ٹرمپ ملاقاتوں کی طویل تاریخ

بدھ کی ملاقات صدر ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ساتویں ملاقات ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات پہلے 18 فروری کو متوقع تھی، تاہم ایران کے ساتھ تازہ سفارتی سرگرمیوں کے باعث ملاقات کی تاریخ پہلے کر دی گئی۔

گزشتہ سال جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی یورینیم افزودگی اور دیگر جوہری تنصیبات پر فوجی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی تاریخ کی سب سے براہِ راست فوجی کارروائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کو دوٹوک جواب، ایران نے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا

جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔

خطے میں جنگ کے خدشات

امریکا اور اسرائیل بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی یا میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے تیل پیدا کرنے والے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

ایران کی دھمکی اور خلیجی ممالک کو انتباہ

ایران نے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف سخت ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے ان خلیجی عرب ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں کہ اگر وہ کسی حملے میں شامل ہوئے تو وہ بھی ایران کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟