معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پبلشر ول لیوس اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ کی پہلی خاتون ایڈیٹر کو اپنا عہدہ کیوں چھوڑنا پڑا؟
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ارب پتی بزنس مین اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی ملکیت اس اخبار نے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کی چھانٹی کا اعلان کیا جس پر قارئین اور ملازمین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
امریکا بھر میں اخبارات کو درپیش مالی مشکلات کے باوجود ول لیوس کے 2 سالہ دور قیادت کو سبسکرائبرز اور عملے کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا خاص طور پر اس وقت جب وہ اخبار کے مالی نقصانات کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ول لیوس کی جگہ جیف ڈی اونوفریو کو نیا سی ای او مقرر کر دیا گیا ہے جو اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹمبلر کے سی ای او رہ چکے ہیں اور گزشتہ سال واشنگٹن پوسٹ میں چیف فنانشل آفیسر کے طور پر شامل ہوئے تھے۔
اخبار کے ایک رپورٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ای میل میں ول لیوس نے عملے کو بتایا کہ ان کے لیے عہدہ چھوڑنے کا یہی مناسب وقت ہے۔
مزید پڑھیے: واشنگٹن پوسٹ کی روایت پر چلیں
واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ جیف ڈی اونوفریو فوری طور پر ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔
بدھ کے روز اعلان کردہ ملازمتوں میں کمی کے نتیجے میں اخبار کے سینکڑوں صحافیوں کو فارغ کر دیا گیا جن میں زیادہ تر غیر ملکی، مقامی اور اسپورٹس رپورٹرز شامل تھے۔
اگرچہ واشنگٹن پوسٹ نے متاثرہ ملازمین کی تعداد ظاہر نہیں کی تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق تقریباً 800 صحافیوں میں سے 300 کو برطرف کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اخبار کی پوری مشرقِ وسطیٰ ٹیم کو فارغ کر دیا گیا جبکہ یوکرین جنگ کے دوران کیف میں تعینات نمائندہ بھی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
مزید پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا
اسپورٹس، گرافکس اور مقامی خبروں کے شعبوں میں نمایاں کمی کی گئی جبکہ اخبار کا روزانہ پوڈکاسٹ بھی معطل کر دیا گیا۔
ان اقدامات کے خلاف جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کے صدر دفتر کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔
امریکا بھر میں اخبارات کو آمدنی اور سبسکرپشن میں کمی کا سامنا ہے کیونکہ سوشل میڈیا نے قارئین کی توجہ حاصل کرلی ہے اور ڈیجیٹل اشتہارات، پرنٹ اشتہارات کی جگہ لینے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل جیسے قومی اخبارات مالی طور پر خود کو مستحکم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ ارب پتی سرپرستی کے باوجود واشنگٹن پوسٹ اس بحران سے مکمل طور پر نکلنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیے: خالصتانی سکھ رہنما کے قتل کا منصوبہ؛ واشنگٹن پوسٹ کے انکشافات سے بھارت میں پریشانی
ول لیوس نے عملے کو اپنے پیغام میں کہا کہ ان کے دور میں واشنگٹن پوسٹ کے پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے تاکہ یہ ادارہ آئندہ برسوں تک غیر جانبدار اور معیاری صحافت جاری رکھ سکے۔














