سال 2026 کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا، جو ایک خوبصورت فلکیاتی منظر ’رِنگ آف فائر‘ (حلقۂ نور) کی صورت میں دیکھا جائے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ دراصل ایک حلقوی سورج گرہن ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ مظہر اُس وقت پیش آتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، مگر چونکہ اس وقت چاند زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے، اس لیے وہ سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا۔ نتیجتاً سورج کے گرد روشن دائرہ یا آگ کی انگوٹھی جیسا منظر دکھائی دیتا ہے، جسے ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: رواں سال کا پہلا سورج گرہن کب، کیا پاکستان میں دیکھنا ممکن ہوگا؟
سائنسی ویب سائٹس کے مطابق گرہن کے عروج پر سورج کا قریباً 96 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا، جبکہ حلقوی مرحلہ قریباً 2 منٹ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
شیڈول کے مطابق یہ گرہن پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 1 منٹ پر شروع ہوگا۔ مکمل حلقوی گرہن صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا، جبکہ چلی، ارجنٹینا اور جنوبی افریقہ کے بعض علاقوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔
یہ گرہن ایشیا کے بیشتر حصوں بشمول پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ تاہم پاکستان میں موجود شائقین فلکیات اسے ٹائم اینڈ ڈیٹ ویب سائٹ پر براہِ راست نشریات (لائیو اسٹریمنگ) کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔
مزید پڑھیں: فروری 2026 میں سورج گرہن اور اینٹارکٹیکا میں ’رنگِ فائر‘ کا نادر منظر متوقع
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو بغیر حفاظتی عینک یا منظور شدہ سولر فلٹر کے براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے شدید نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشاہدے کے لیے صرف مستند اور محفوظ آلات استعمال کریں۔














