رواں برس 10 جنوری کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر پراسپر میں اپنے والد کے گھر گولی لگنے سے ہلاک ہونیوالی 23 سالہ برطانوی لوسی ہیریسن کی موت کی تحقیقات کے لیے چیشر کورونر کورٹ میں انکوائری کا آغاز ہو گیا ہے۔
سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ واقعے کے روز لوسی اور ان کے والد کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے شدید بحث ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین سیکس اسکینڈل: شریک مجرمہ گیلین میکسویل کی کانگریس میں پیشی، کیا صدر ٹرمپ بھی خطرے میں ہیں؟
لوسی ہیریسن، جو چیشائر کے علاقے وارنگٹن سے تعلق رکھتی تھیں اور فیشن برانڈ بوہو میں بطور بائر کام کر رہی تھیں، چھٹیاں گزارنے اپنے بوائے فرینڈ سیم لِٹلر کے ہمراہ امریکا گئی تھیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 10 جنوری کی صبح لوسی اور ان کے والد کرس ہیریسن کے درمیان ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی متوقع حلف برداری کے تناظر میں گرما گرم بحث ہوئی۔
Father kills his own daughter for being anti-Trump, and a Prosper TX grand jury does not indict on a single crime. @VP, not only does the far right corner the violent market, but infects the justice system as well. pic.twitter.com/sPSOleOQCY
— Peter Muenzen (@PeterMuenzen) February 11, 2026
سیم لِٹلر کے مطابق بحث کے دوران لوسی نے اپنے والد سے سوال کیا کہ اگر میں اس لڑکی کی جگہ ہوتی اور میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہوتی تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا۔
اس پر کرس ہیریسن نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ ان کی دو اور بیٹیاں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں، اس لیے انہیں اتنا دکھ نہ ہوتا، اس جواب پر لوسی شدید دل برداشتہ ہو کر اوپر چلی گئیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ لوسی اپنے والد کے اسلحہ رکھنے کے معاملے پر اکثر پریشان ہو جاتی تھیں، وقوعے کے روز ایئرپورٹ روانگی سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل، لوسی کچن میں موجود تھیں جب ان کے والد انہیں ہاتھ سے پکڑ کر گراؤنڈ فلور پر واقع اپنے بیڈروم میں لے گئے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز: معروف فنکارہ شیریل کرو کا ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ
سیم لِٹلر کے مطابق تقریباً 15 سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی اور پھر کرس ہیریسن اپنی اہلیہ کو پکارتے ہوئے چیخنے لگے۔
’جب میں کمرے میں داخل ہوا تو لوسی باتھ روم کے دروازے کے قریب فرش پر پڑی تھیں اور کرس بے ربط انداز میں چیخ رہے تھے۔‘
کرس ہیریسن کے تحریری بیان کے مطابق وہ اور ان کی بیٹی اس وقت گن کرائم سے متعلق ایک خبر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے لوسی کو بتایا کہ ان کے پاس ایک گن ہے اور پوچھا کہ کیا وہ اسے دیکھنا چاہتی ہیں۔
مزید پڑھیں: باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کی توہین آمیز ویڈیو شیئر کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ تنقید کی زد میں
وہ بیڈروم میں گئے جہاں انہوں نے بیڈ سائیڈ کیبنٹ سے گلاک 9 ایم ایم سیمی آٹومیٹک پستول نکالی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہوں نے گن اٹھا کر دکھانا چاہی، اچانک گولی چل گئی اور لوسی فوراً گر گئیں، انہوں نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ اس وقت ان کی انگلی ٹریگر پر تھی یا نہیں۔
کرس ہیریسن نے بیان میں تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں شراب نوشی کے عادی رہے ہیں اور واقعے کے دن وہ جذباتی تھے کیونکہ بیٹی کی واپسی کا وقت قریب تھا، اسی باعث انہوں نے دوبارہ شراب پی لی۔
Literally all MAGA has to go, this is genuinely a cult if you are killing your FAMILY over it. Your baby girl who you RAISED and you just shot her???? OVER POLITICS?!?!?? https://t.co/BBfYMFZoeZ
— Bella (@__GoonKnight__) February 11, 2026
پولیس افسر لوسیانا ایسکیلرا کے بیان کے مطابق جب انہیں گھر بلایا گیا تو انہوں نے کرس کی سانس سے شراب کی بو محسوس کی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی دن دوپہر ایک بجے سے کچھ پہلے 500 ملی لیٹر کی شراب کی 2 بوتلیں خریدی تھیں۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو ممکنہ طور پر غیر ارادی قتل کے طور پر دیکھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے بارک اوباما سے متعلق شیئر کی گئی اپنی توہین آمیز ویڈیو کی خود ہی مذمت کردی
تاہم کولن کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے کرس ہیریسن پر فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔
سماعت کے آغاز پر کرس ہیریسن کی وکیل اینا سیموئل نے کورونر جیکولین ڈیونش سے کیس سے الگ ہونے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری کا انداز فیکٹ فائنڈنگ کے بجائے فوجداری تفتیش جیسا ہے۔
تاہم لوسی کی والدہ جین کوٹس کی نمائندہ لوئس نورس نے اس درخواست کو ’قانونی ٹیم کی اچانک چال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمرے میں صرف ایک شخص موجود تھا جس نے لوسی کو گولی ماری۔

کورونر نے خود کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
اپنے وکلا کے ذریعے جاری بیان میں کرس ہیریسن نے کہا کہ وہ اپنے عمل کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
’ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب میں اس نقصان کا بوجھ محسوس نہ کرتا ہوں، اور یہ بوجھ میں ساری زندگی اٹھاؤں گا۔‘
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی تردید، الزامات کو سازش قرار دے دیا
لوسی کی والدہ جین کوٹس نے اپنی بیٹی کو ’زندگی سے بھرپور شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حساس اور پرجوش تھی، اور اہم معاملات پر بحث کرنا پسند کرتی تھی۔
سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کورونر کی جانب سے حتمی نتائج سنائے جانے کی توقع ہے۔














