سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپے ہوئے زمینی خدوخال کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح انداز میں دریافت کرلیا ہے، جس سے منجمد براعظم کے پوشیدہ مناظر کی ایک نئی اور تفصیلی تصویر سامنے آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں نوکری کے لیے غیر معمولی معاوضے کی پیشکش، نوجوان کو فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک نئی تیار کردہ نقشہ بندی میں انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے موجود زمین کو اب تک کی سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو ماہرین کو اس براعظم کی ساخت اور مستقبل میں ممکنہ تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔
ماہرین نے یہ نیا نقشہ سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور براعظم میں موجود گلیشیئرز کی حرکت کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کیا۔ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو یکجا کرکے سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ برف کے نیچے زمینی سطح کیسی ہوسکتی ہے۔ اس عمل کے دوران ہزاروں ایسے پہاڑی ٹیلے، نشیب و فراز اور متعدد چھپی ہوئی پہاڑی سلسلے سامنے آئے جو پہلے کے نقشوں میں واضح نہیں تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نقشہ ابھی مکمل طور پر درست نہیں اور کچھ غیر یقینی پہلو موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ انٹارکٹیکا پر موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ماہرین کے مطابق برف میں آنے والی تبدیلیاں عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کا سونا اُگلتا آتش فشاں، حقیقت یا فسانہ؟
یونیورسٹی آف گرینوبل-الپس سے تعلق رکھنے والی مرکزی محقق ڈاکٹر ہیلن اوکینڈن کا کہنا ہے کہ یہ نئی نقشہ بندی ایسے ہے جیسے دھندلی تصویر سے ہٹ کر ایک واضح اور تیز ڈیجیٹل تصویر حاصل کرلی گئی ہو، جس سے اصل صورتحال کہیں بہتر انداز میں سامنے آئی ہے۔
ماضی میں سائنسدان زیادہ تر زمینی یا فضائی ریڈار سرویز پر انحصار کرتے تھے، حالانکہ بعض علاقوں میں برف کی موٹائی 3 میل تک ہے۔ اس طرح کے سرویز مخصوص پروازوں یا راستوں تک محدود ہوتے تھے، جس کی وجہ سے مکمل تصویر حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے پروفیسر رابرٹ بنگھم نے کہا کہ پہلی بار پورے انٹارکٹیکا کے زمینی خدوخال کو ایک ساتھ دیکھنا نہایت دلچسپ اور حیران کن تجربہ ہے۔ ان کے مطابق پرانے سروے راستے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتے تھے، جس سے ڈیٹا میں بڑے خلا رہ جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی برف کا سمندروں پر کتنا خوفناک اثر پڑ سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بالکل ایسے ہی ہے جیسے اسکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز یا یورپ کے الپس کو برف سے ڈھکا ہوا تصور کرکے صرف چند، دور دور پر ہونے والی پروازوں کے ذریعے ان کی ساخت جاننے کی کوشش کی جائے، جس سے نہ تو نوکیلی چوٹیاں اور نہ ہی گہری وادیاں پوری طرح سامنے آسکتیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ نئی نقشہ بندی مستقبل میں انٹارکٹیکا کی برفانی چادروں کے رویے کو سمجھنے اور عالمی سطح پر موسمیاتی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوگی۔











