کینیڈا کے اسکول فائرنگ واقعے میں نوجوان خاتون ملوث قرار

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ منگل کو مغربی کینیڈا میں ایک ہولناک اسکول فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ حملہ آور 18 سالہ خاتون تھی جو ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھی۔

پولیس کے مطابق اس نے اپنے سابقہ اسکول پر حملہ کرنے سے قبل اپنی والدہ اور سوتیلے بھائی کو قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: برٹش کولمبیا کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک؛ مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا

تاہم حکام نے اس اندوہناک سانحے کے محرکات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی، یہ واقعہ کینیڈا کی تاریخ کے بدترین اجتماعی قتل عام میں شمار کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور خاتون کی شناخت جیسی وین روٹسیلار کے نام سے ہوئی ہے۔

منگل کے روز برٹش کولمبیا کے دور دراز قصبے ٹمبلر رج میں فائرنگ کے بعد خودکشی کر لی۔ اس قصبے کی آبادی تقریباً 2,400 افراد پر مشتمل ہے۔

پولیس نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی تھی، تاہم بعد ازاں اسے کم کر کے نو کر دیا گیا، جن میں خود حملہ آور بھی شامل ہے۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے برٹش کولمبیا میں کمانڈر ڈپٹی کمشنر ڈوین میکڈونلڈ کے مطابق ملزمہ کو ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ صوبائی ذہنی صحت ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر معائنہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: مغربی تعلیم زوال پذیر کیوں ہے؟

وہ اسی اسکول کی طالبہ رہ چکی تھی لیکن 4 سال قبل تعلیم چھوڑ دی تھی۔

میکڈونلڈ نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پولیس کو متعدد بار اس کے گھر جانا پڑا، جہاں ذہنی صحت سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے۔

امریکا کے برعکس کینیڈا میں اسکول فائرنگ کے واقعات نہایت کم ہوتے ہیں، اور اس سانحے کے بعد وفاقی سیاستدان بھی شدید صدمے کا شکار دکھائی دیے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: اسکول میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

وزیر اعظم مارک کارنی نے آبدیدہ انداز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس صدمے سے نکل آئیں گے اور اس سے سبق سیکھیں گے۔

انہوں نے اپنا یورپ کا دورہ ملتوی کر دیا اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم 7 روز تک سرنگوں رکھنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں ہاؤس آف کامنز میں ارکان نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، جہاں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قتل و غارت پورے ملک کو صدمے اور سوگ میں مبتلا کر گئی ہے۔

پولیس کے مطابق وین روٹسیلار نے، جو پیدائشی طور پر مرد تھی لیکن 6 سال قبل خود کو خاتون کے طور پر شناخت کرنے لگی تھی، سب سے پہلے اپنی 39 سالہ والدہ اور 11 سالہ سوتیلے بھائی کو گھر میں قتل کیا۔

بعد ازاں وہ اسکول پہنچی جہاں اس نے 39 سالہ خاتون ٹیچر، تین 12 سالہ طالبات، اور 2 طلبا کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک رائفل اور ایک ترمیم شدہ پستول برآمد کی۔

مزید پڑھیں: کینیڈا کی معروف اداکارہ کیتھرین او ہارا 71 برس کی عمر میں چل بسیں

فائرنگ کے اس واقعہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ 12 اور 19 سال کی عمر کے 2 شدید زخمی طلبا بدستور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

حکام کے مطابق پولیس کو ابتدائی کال کے 2 منٹ بعد موقع پر پہنچنے پر فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ اہلکاروں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ بعد ازاں حملہ آور کو مردہ پایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر ملزمہ نے اکیلے کارروائی کی اور ابھی تک کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنانے کے شواہد نہیں ملے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp