مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صحت اور علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے تمام الزامات کی نفی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کے الزامات بے بنیاد ثابت، عمران خان کو جیل میں مکمل سہولیات حاصل ہیں، عطا اللہ تارڑ
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات کی تفصیل موجود ہے، جن میں ناشتہ، دوپہر کا کھانا، طبی معائنہ اور مشاورت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں قیدِ تنہائی سے متعلق دعوؤں کی بھی تردید کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس میں مطابقت ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ انہیں علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی، بلکہ انہوں نے صرف فراہم کردہ علاج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق جب بھی انہوں نے شکایت کی، انہیں علاج فراہم کیا گیا اور آنکھ کے مسئلے پر انہیں پمز اسپتال بھی منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا علاج ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے، علیمہ خان کا مطالبہ
انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر سیاست کرنا مناسب نہیں، اور خبردار کیا کہ قیدیوں کی صحت کے معاملے پر حکومت یا جیل حکام کی جانب سے سیاست کرنا جرم ہے۔













