مسلم لیگ (ن) اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز سے ہر ماہ کتنی رقم وصول کرتی ہے؟

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی ہر بڑی سیاسی جماعت اپنے آپ کو مضبوط اور فعال رکھنے کے لیے اندرونی فنڈ ریزنگ پروگرام چلاتی ہے، جو پارٹی سیکرٹریٹ، جلسوں، جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ضروری فنڈز اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنے منتخب اراکینِ اسمبلی سے ماہانہ فنڈنگ کی پالیسی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو پارٹی کے مالی استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) اپنے ہر قومی اسمبلی کے رکن (ایم این اے) اور صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) سے ماہانہ 20 ہزار روپے کی شراکت وصول کرتی ہے۔ یہ رقم اراکین کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور پارٹی فنڈز میں شامل کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مسلم لیگ ن میں فیصلوں کا حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

اگر کوئی ایم این اے، ایم پی اے یا حتیٰ کہ وزیر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو اسے ڈیفالٹر قرار دے کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اراکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اگلے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، جو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پارٹی کے ایک سینئر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نظام پارٹی کی مالی شفافیت اور اراکین کی وابستگی کو یقینی بناتا ہے۔ کچھ اراکین جان بوجھ کر ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں، جنہیں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ تاہم، جب انتخابات قریب آتے ہیں تو یہ اراکین اپنے بقایاجات فوری طور پر کلیئر کر دیتے ہیں۔

جو ادائیگی نہیں کرتے، ان کے لیے پارٹی ٹکٹ کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ کلیئرنس کے بعد ہی انہیں ٹکٹ الاٹ کیا جاتا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف فنڈز اکٹھا کرتی ہے بلکہ پارٹی میں نظم و ضبط بھی برقرار رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ضمنی انتخابات: مسلم لیگ ن نے ٹکٹس کن کن وزرا کے خاندانوں میں بانٹیں؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس نوعیت کی فنڈ ریزنگ پالیسیاں نئی بات نہیں ہیں۔ دیگر جماعتیں جیسے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے اراکین اور سپورٹرز سے فنڈز حاصل کرتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کا نظام نسبتاً زیادہ منظم اور سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے پروگرام جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے اور اندرونی مالی وسائل کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پالیسیاں اراکین پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے