جین زی کو بنگلہ دیش میں شکست، پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوان توانائی پارلیمانی طاقت میں تبدیل کیوں نہ ہوسکی؟

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برصغیر میں احتجاجی سیاست کوئی نئی بات نہیں لیکن آج سے ڈیڑھ سال قبل جس طرح سے بنگلہ طلبا نے کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا اور ایک ہیوی مینڈیٹ والی عوامی لیگ کی حکومت کو نکال باہر کیا یہ تاریخی اعتبار سے ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔

دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ذرائع میں ترقی نے نوجوان نسل کو اُن سیاسی موضوعات کی طرف متوجہ کیا ہے جو اِس سے پہلے بڑی عمر کے افراد کے موضاعاتِ گفتگو ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں نوجوان نسل نے نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف اتنا مؤثر احتجاج کیا کہ وزیراعظم کے پی شرما اولی کو مستعفی ہونا پڑا۔

پاکستان میں دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی شروعات سے ہی نوجوانوں کی نمائندگی کا دعوٰی کرتی آئی ہے اور اِس جماعت کے جلسے، احتجاجات اور سوشل میڈیا حمایت میں ہمیں نوجوانوں کا بھرپور کردار بھی نظر آتا ہے۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ نوجوان نسل احتجاج کے ذریعے سے حکومتیں گرا تو سکتی ہے لیکن حکومتوں میں اُن کا حصّہ شامل نہیں ہوتا اور حکومت میں وہی روایتی سیاسی جماعتیں برسرِاقتدار آتی ہیں۔

جنوبی ایشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نوجوان ووٹرز کی سیاسی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں جین زی (Gen-Z) کو سیاسی مباحثے کا مرکزی کردار سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کے حالیہ انتخابی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان حمایت لازماً انتخابی برتری یا پائیدار حکمرانی میں تبدیل نہیں ہوپاتی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بنگلہ دیش: شہری بیانیہ بمقابلہ روایتی سیاست

بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابی نتائج کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 5 نشستیں حاصل کیں، جو بظاہر نوجوان سیاست کی نمائندگی کرتی ہیں مگر ملک کی سیاست پر طویل عرصے سے 2 بڑی جماعتوں عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا غلبہ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ انتخابی نظام ہے۔ بنگلہ دیش میں ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ (ایف پی ٹی پی) نظام نافذ ہے، جس میں جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ جیت جاتا ہے، چاہے مجموعی ووٹوں کا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس نظام میں نئی یا شہری نوجوان جماعتوں کے ووٹ منتشر ہوجاتے ہیں۔ مزید یہ کہ دیہی علاقوں میں روایتی جماعتوں کے تنظیمی نیٹ ورک اور مقامی دھڑے بندی مضبوط ہیں، جو نوجوان شہری تحریکوں کو وسیع انتخابی کامیابی حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔

نیپال: انتخابی بریک تھرو لیکن حکمرانی کا چیلنج

نیپال میں 2022 کے انتخابات میں راشٹریہ سوتنترا پارٹی نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی اور نوجوان ووٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اسے سیاسی ’اسٹیٹس کو‘ کے خلاف ایک علامتی بغاوت سمجھا گیا۔

تاہم نیپال کا مخلوط پارلیمانی نظام اور اتحادی سیاست نئی جماعتوں کے لیے مسلسل چیلنج بن جاتی ہے۔ حکومت سازی کے لیے اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں نظریاتی ایجنڈا اکثر سمجھوتوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور ادارہ جاتی کمزوری بھی نوجوان قیادت کو دیرپا اصلاحات نافذ کرنے سے روکتی ہے۔ یوں انقلابی جوش حکمرانی کے پیچیدہ عمل میں سست پڑجاتا ہے۔

پاکستان: نوجوان مقبولیت اور طاقت کا توازن

پاکستان میں پی ٹی آئی کو گزشتہ برسوں میں نوجوانوں اور شہری متوسط طبقے کی نمایاں حمایت حاصل رہی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر پارٹی کا بیانیہ جین زی میں مقبول رہا۔

لیکن پاکستانی سیاست میں سول-ملٹری تعلقات، عدالتی و انتظامی پیچیدگیاں اور انتخابی تنازعات سیاسی عمل کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوان ووٹ کی ڈیجیٹل طاقت ہمیشہ گراؤنڈ آرگنائزیشن اور پولنگ ڈے مینجمنٹ میں تبدیل نہیں ہوپاتی۔ مزید برآں، معاشی چیلنجز اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بلند توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں نوجوان ووٹر جلد مایوسی کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

انتخابی نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچہ: ایک مشترکہ عنصر

تینوں ممالک کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ انتخابی نظام نئی سیاسی قوتوں کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ایف پی ٹی پی نظام بڑی اور پرانی جماعتوں کو فائدہ دیتا ہے، جبکہ متناسب نمائندگی نسبتاً بہتر مواقع فراہم کرتی ہے، مگر وہاں بھی اتحادی سیاست کی مجبوری حائل ہوجاتی ہے۔

اسی طرح روایتی جماعتوں کے پاس دہائیوں پر محیط تنظیمی ڈھانچہ، مالی وسائل اور مقامی سطح پر اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ نوجوان تحریکیں عموماً بیانیاتی سیاست اور احتجاجی جذبے پر مبنی ہوتی ہیں، جو انتخابی عمل کے پیچیدہ اور طویل مرحلے میں کمزور پڑسکتی ہیں۔

سوشل میڈیا کا تاثر اور زمینی حقیقت

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوان سیاست کا اہم ہتھیار بن چکے ہیں، مگر سوشل میڈیا کی مقبولیت اکثر ’ایکو چیمبر‘ پیدا کرتی ہے۔ اس سے ایک ایسا تاثر جنم لیتا ہے کہ نوجوان بیانیہ پورے معاشرے پر غالب ہے جبکہ دیہی اور غیر ڈیجیٹل ووٹرز کی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس تضاد کے باعث انتخابی نتائج توقعات سے مختلف نکلتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں نوجوان سیاسی بیداری ایک حقیقت ہے، مگر اسے پارلیمانی طاقت اور پائیدار حکمرانی میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، انتخابی حکمتِ عملی، اور ادارہ جاتی توازن ناگزیر ہیں۔ بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ صرف جوش، بیانیہ اور ڈیجیٹل مقبولیت کافی نہیں؛ دیرپا سیاسی کامیابی کے لیے زمینی تنظیم، اتحاد سازی اور عملی پالیسی مہارت بنیادی ستون ہیں۔

نوجوان نسل انقلاب تو لے آتی ہے لیکن وہ انتخابی سیاست کی حرکیات سے آگاہ نہیں ہوتی:احمد بلال محبوب

پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے انتخابی سیاست اور احتجاجی سیاست میں بہت بڑا فرق ہے۔ جو سیاسی جماعتیں یا گروہ احتجاجی سیاست میں کامیاب ہوتے ہیں اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ انتخابی سیاست میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے جماعتِ اِسلامی اور جمیعت علمائے اِسلام مؤثر احتجاجی جماعتیں رہی ہیں جن کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے لیکن انتخابی سیاست میں یہ ہمیشہ محدود سی سیٹوں کے ساتھ ہی کامیابی حاصل کر پاتی ہیں۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ بنگلہ دیش میں این سی پی کے لوگ انقلاب تو لے آئے لیکن بعد میں یہ اپنے اندر اتحاد بھی قائم نہ رکھ پائے کیونکہ اِن میں سے ایک گروہ کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جماعت اِسلامی کے ساتھ اتحاد کیوں کیا۔

انہوں نے کہا کہ روایتی سیاسی جماعتوں کے پاس حلقہ جات کی سیاست کا تجربہ ہوتا ہے اور ان کے پاس حلقوں میں کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں جبکہ نوجوان نسل کے پریشر گروپس جو اُبھرتے ہیں اُن کے پاس یہ سب نہیں ہوتا۔ پھر عملی نقطہ نظر سے سوچنے والے افراد کی ووٹنگ ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ پاکستان میں پاکستان تحریکِ انصاف نوجوان نسل کی نمائندگی کا دعوٰی تو کرتی ہے لیکن اب جب گزشتہ 3 برس سے اس نے احتجاجی سیاست شروع کی ہے تو اسے حکومت میں آئے ہوئے 13 سال ہوچکے ہیں اِس لیے ہم اسے کوئی نئی سیاسی جماعت نہیں کہہ سکتے۔

جین زی کے پاس کوئی سیاسی تربیت نہیں ہے: ڈاکٹر صائمہ بشیر

پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) میں سینیئر ڈیموگرافر اور وزارتِ منصوبہ بندی میں سابق ممبر سوشل اینڈ ڈیولوشن سیکٹر ڈاکٹر صائمہ بشیر نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جین زی یا آج کی نوجوان نسل کے پاس سب سے بڑا ایج سوشل میڈیا ہے جس سے یہ مختلف مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرسکتے ہیں اور اسے پھیلا سکتے ہیں۔ یہ لوگ احتجاج میں بہت اچھے ہیں لیکن اس احتجاج کا منطقی نتیجہ کیا نکلے گا اور کس طرح سے اسے ایک اختتامی شکل دینی ہے یہ اِن لوگوں کو پتہ نہیں۔

نوجوان نسل کو اگر بامعنی مواقع نہیں ملیں گے تو یہ صورتحال کو احتجاج کی طرف لے کر جائیں گے۔ نیپال اور بنگلہ دیش میں ہم نے دیکھا کہ بنیادی مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی کا تھا۔ باقی کرپشن یا دیگر بیانیے بعد میں بنتے ہیں لیکن بنیادی نقطہ نوجوان نسل کو بامعنی مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نسل کے اندر یہ چیز مثبت ہے کہ ان کو پتہ ہے سوشل میڈیا پر احتجاج کیسے کرنا اور کیسے اس کا دائرہ بڑھانا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے ہیں جہاں ان کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی۔ سیاسی تحاریک کے لیے لوگوں کو گھروں سے نکالنا اور ان کو موبلائز کرنا پڑتا ہے لیکن اس جنریشن کے پاس سیاسی کے ساتھ ساتھ سوشل اور ایموشنل اسکلز بھی نہیں ہیں اور یہ اسٹریٹ اسمارٹ بھی نہیں کیونکہ یہ زیادہ وقت انٹرنیٹ پر بتاتے ہیں۔

صائمہ بشیر کا کہنا تھا کہ انتخابی تحاریک درمیانی عمر کے افراد چلاتے ہیں کیونکہ ان کے تحفظات ہوتے ہیں۔ جیسے بارک اوباما نے جب اپنی کمپین کی تو اُس کے لئے وہ لوگ نکلے جنہیں علاج اور پنشن اصلاحات چاہیئں تھیں۔ جین زی بنیادی طور پر احتجاج میں اچھے لیکن یہ اُس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟