پاکستان کے بھارت سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں کھیلنے کے فیصلے کے بعد جنوبی ایشیا کرکٹ شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت ٹاکرے سے قبل ہینڈشیک تنازعہ دوبارہ زیر بحث
یہ میچ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں اتوار کی شام ہوگا۔ افسران کے مطابق 35,000 گنجائش والے آر پریما داسا اسٹیڈیم کی تمام نشستیں قبل از وقت بک ہو چکی تھیں جبکہ بلیک مارکیٹ میں ٹکٹ کی قیمت اصلی قیمت سے 4 گنا زیادہ تک جا پہنچی۔
دوسری جانب ٹی وی پر کروڑوں شائقین بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک میں اس میچ کو دیکھیں گے جس نے ٹورنامنٹ میں نئے جوش و خروش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
گروپ اے کی صورتحال
پاکستان اور بھارت نے گروپ اے میں کھیلے گئے دونوں میچز جیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب ان دونوں کے درمیان مقابلہ جیتنے والی ٹیم سپر 88 راؤنڈ کے لیے اپنی جگہ یقینی بنالے گی۔
مزید پڑھیے: ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے کیا کہا؟
بھارت اور پاکستان آج کل صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں اور وہ بھی کسی تیسرے ملک میں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ کب ہوا تھا؟
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ 18 سال قبل ہوا تھا اور باہمی سیریز کھیلنے کے لیے دونوں ٹیموں کو بارڈر عبور کیے ہوئے 13 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کے فیصلے سے کرکٹ کی اصل روح برقرار رہی، شاہد آفریدی
گزشتہ ستمبر میں دبئی میں ٹی 20 ایشین کپ میں دونوں ٹیمیں 3 بار ملی تھیں جس میں بھارت نے ہر میچ اور فائنل جیتا۔
عالمی دلچسپی اور تجارتی اہمیت
میچ کے ٹی وی ناظرین کے اعداد و شمار کے ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع ہے۔
پاک بھارت میچ کتنے افراد دیکھیں گے؟
اندازے کے مطابق پاک بھارت میچ کو ایک ارب سے زائد افراد دیکھ سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قابل تصدیق اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ سنہ 2011 کا 50 اوورز والا ورلڈ کپ فائنل تھا جس میں بھارت نے سری لنکا کو ہرایا تھا۔ اس میچ کو 55 لاکھ 80 ہزار ناظرین نے دیکھا تھا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کا پاک بھارت میچ اشتہارات، براڈکاسٹ رائٹس، اسپانسرشپ اور سیاحت سے کروڑوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔
فیصلہ اور سیاسی پس منظر
پاکستان نے ابتدائی طور پر بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا تھا۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ میچ کو آگے بڑھنے دیا جائے۔ پاکستان حکومت نے بالآخر 15 فروری کو اپنی ٹیم کو کھیلنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ کرکٹ کے جذبے کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل سیاسی تناؤ کی وجہ سے بنگلہ دیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا تھا جس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: پاکستان کا سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ
پاکستان نے بھی ابتدا میں بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا تھا تاہم 8 روز بعد دیگر ممالک کی درخواست پر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلی۔














