پی ٹی آئی خیبر پختونخوا قیادت میں تبدیلی کی کوششیں تیز، نوجوان قیادت جنید اکبر کے خلاف کیوں؟

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کو ہٹانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں جس کا اشارہ خود موجودہ صدر جنید اکبر بھی دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میرا گھر، اختلافات اور شکوے سب چلتا رہے گا، جنید اکبر نے واضح کردیا

پی ٹی آئی کے باخبر ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کے اندر جنید اکبر کے خلاف گروپنگ شروع ہو چکی ہے اور صوبے میں برسر اقتدار پارٹی گروپ کا خیال ہے کہ صوبائی صدر ان کے اپنے گروپ سے ہونا چاہیے تاکہ حکومتی اور پارٹی معاملات میں مسائل پیدا نہ ہوں۔

جنید اکبر کے ساتھ اندرونی اختلافات

پارٹی کے ایک باخبر رہنما نے بتایا کہ جب اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر جنید اکبر کو نیا صوبائی صدر مقرر کیا گیا تو اسی وقت سے جنید اکبر کی اندرونی سطح پر سخت مخالفت شروع ہو گئی تھی۔ جنید اکبر کو مرکزی پارٹی رہنماؤں کی جانب سے صوبائی صدارت کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جنید اکبر احتجاج اور تصادم والی سیاست کے حامی ہیں جبکہ موجودہ حالات میں ان کی تعیناتی سے مقتدر حلقوں کے ساتھ حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

پارٹی رہنما نے بتایا کہ جنید اکبر کی بطور صدر تعیناتی کو ورکرز نے بہت سراہا تھا جو اس وقت علی امین گنڈاپور سے عمران خان کے لیے منظم احتجاجی تحریک نہ چلانے پر سخت ناراض تھے۔ ان کے مطابق توقع تھی کہ جنید اکبر، جو عمران خان کے سچے سپاہی کے طور پر جانے جاتے ہیں، عمران خان کی رہائی کے لیے صوبے سے ایک منظم تحریک کا آغاز کریں گے لیکن وقت کے ساتھ ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ جنید اکبر کے دور میں صوابی میں جلسہ کامیاب نہ ہو سکا جس کی ذمہ داری بعد میں مخالف گروپ پر عائد کر دی گئی۔ ان کے مطابق جب علی امین وزیراعلیٰ تھے تو جنید اکبر کا مؤقف تھا کہ علی امین گنڈاپور انھیں کام کرنے نہیں دے رہے تاہم مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود وہ عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں۔

مزید پڑھیے: جنید اکبر پی ٹی آئی سے سخت ناراض، پارٹی چھوڑنے کی دھمکی

علی امین گنڈاپور کی تبدیلی اور سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کو جنید اکبر اور ان کے گروپ نے سراہا تھا۔

سہیل آفریدی گروپ اور جنید اکبر گروپ میں اختلافات

سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ورکرز پرامید تھے کہ اندرونی اختلافات ختم ہوں گے اور سہیل آفریدی اور جنید اکبر مل کر عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کریں گے کیونکہ دونوں کو عمران خان کے قابل اعتماد سپاہی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق پارٹی میں ورکرز فعال نہیں ہیں جس کی ذمہ داری جنید اکبر پر عائد کی جا رہی ہے جبکہ جنید اکبر گروپ کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے جس سے ورکرز بھی خوش نہیں ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اس وقت صوبائی حکومت اور جنید اکبر کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبے میں برسرِاقتدار نوجوان قیادت صوبائی صدر کی تبدیلی کی خواہاں ہے۔

ان کا خیال ہے کہ نیا نوجوان صدر ہونا چاہیے جو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلے۔

نئے صوبائی صدر کی دوڑ میں کون کون شامل؟

باخبر ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار نوجوان قیادت صوبائی صدر کی تبدیلی میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ ان کے مطابق علی امین کی تبدیلی کے بعد اب صوبے میں وہی ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں۔ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ، مینا خان سینیئر وزیر، شفع جان ترجمان جبکہ ان کے گروپ کے شاہد خٹک قائد ایوان ہیں اور یوتھ ونگ کے مقبول رہنما شفقت ایاز بھی ان کے ساتھ ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس جنید اکبر اور دیگر کی گرفتاری کے لیے کے پی ہاؤس پہنچ گئی

ذرائع نے بتایا کہ نئی نوجوان قیادت کی خواہش ہے کہ صوبائی صدر بھی یوتھ ونگ کا کوئی رہنما ہو جو صوبائی حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہو۔ ان کے مطابق ایک یوتھ وزیر، جو سہیل آفریدی کے دستِ راست ہیں، خود کو صوبائی صدر بنانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ مراد سعید کے ایک قریبی ساتھی کا نام بھی اس دوڑ میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق مرکزی سطح پر بھی جنید اکبر کی مخالفت ہو رہی ہے۔ جب جنید اکبر نے عمران خان کی رہائی کے لیے خیبر پختونخوا میں بجلی، موٹرویز اور ہائی ویز بند کرنے کا اعلان کیا تو مرکز سے پارٹی نے اس کی مخالفت کی اور واضح کیا کہ احتجاج کے اعلان کا اختیار مرکز کے پاس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان بھی اس وقت یوتھ کو مرکزی سطح پر آگے لا رہے ہیں اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کا مقصد بھی یہی تھا۔

’جنید اکبر کو عمران خان نے صدر بنایا ہے، اختیار صرف ان ہی کے پاس ہے‘

پاکستان تحریک انصاف نے جنید اکبر کو ہٹانے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا اکرام کٹھانہ نے وی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ جنید اکبر اس وقت خیبر پختونخوا کے صدر ہیں جنہیں عمران خان نے مقرر کیا ہے۔

ان کے مطابق جنید اکبر کو ہٹانے کی خبریں بے بنیاد ہیں اور اس وقت پارٹی میں ایسی کوئی مشاورت نہیں ہو رہی۔

یہ بھی پڑھیے: پشاور ہائیکورٹ نے حق کا ساتھ دیا، خیبرپختونخوا کو نیا وزیر اعلیٰ مل گیا، جنید اکبر خان

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر ایک پیج پر ہیں اور دونوں عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان جسے بھی صدر بنائیں گے سب کو منظور ہوگا اور جنید اکبر کو بھی سب سپورٹ کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ تجزیہ کار اور صحافی عارف حیات کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت جو بھی مذاکرات یا مفاہمت کی بات کرتا ہے اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر پہلے علی امین کو صوبائی صدارت اور پھر وزیراعلیٰ شپ سے ہٹا دیا گیا۔

عارف حیات کا کہنا ہے کہ جنید اکبر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ احتجاج کے حامی ہیں اور صوبے میں بجلی اور سڑکیں بند کرنے کے خواہاں ہیں جس سے سہیل آفریدی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی کے ابتدائی دنوں اور موجودہ لہجے میں واضح فرق آ چکا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پارٹی کی جانب سے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی سطح پر سلمان اکرم راجا سمیت اہم رہنما سہیل آفریدی کے ساتھ ہیں اور جنید اکبر سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: صنم جاوید کی گرفتاری پر خیبرپختونخوا حکومت پوزیشن واضح کرے، جنید اکبر کا مطالبہ

ان کے مطابق یہ بات عمران خان تک بھی پہنچ چکی ہے اور نوجوان طبقے کی کوشش ہے کہ صوبائی صدارت بھی ان کے پاس ہو تاکہ حکومت اور پارٹی معاملات میں ہم آہنگی رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت سے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کا بھرپور ٹریننگ سیشن

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟