تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے مظاہرین کو کھانے، پانی اور ادویات تک رسائی روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
تحریک تحفظ آئین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کو بنیادی اشیا سے محروم کرنا مسلسل تیسرے دن برقرار ہے، جس میں مظاہرین کی بنیادی انسانی ضروریات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ تحریک کی قیادت اپنے مطالبات پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، محاصروں اور جبر کے ہتھکنڈے کبھی بھی تحریکیں دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صرف ظلم کے ریکارڈ میں اضافہ کرتے ہیں اور حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔
قائد حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی ادویات تک رسائی روکنے کو تحریک نے سنگین اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو انسانی ہمدردی اور طبی ضرورتوں پر فوقیت دینا ظلم کی بدترین شکل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت فیصل مسجد کے باہر احتجاج
مزید برآں، تحریک نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے معالجین اور فیملی ممبران کی موجودگی میں الشِفاء انٹرنیشنل اسپتال میں مکمل طبی سہولت فراہم کی جائے، جیسا کہ انہوں نے اپنے خطوط میں واضح کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کسی بھی زیر حراست شخص کو معیاری طبی سہولت اور اپنے معالجین تک رسائی دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔
ترجمان نے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ظلم، جبر اور محاصرے کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی اور یہ جدوجہد آئین، قانون اور عوامی حقِ نمائندگی کے تحفظ کے لیے جاری رہے گی، جسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔














