پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی سپارکو نےنیوی گیشن ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے سیٹلائٹ بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم پر مبنی جدید نیوی گیشن ڈیوائس متعارف کرا دی ہے۔
چولستان ریلی 2026 کے موقع پرمتعارف کرائی گئی اس ڈیوائس کی بابت اعلان اتوار کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کیا گیا۔
چولستان کے سخت صحرائی حالات میں، جہاں تیز رفتار گاڑیاں، پیچیدہ راستے اور بصری رہنمائی کے محدود مواقع ڈرائیورز کے لیے چیلنج بنتے ہیں، وہاں پاک-ایس بی اے ایس کا عملی تجربہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اپنا دوسرا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا
ریلی کے مختلف مراحل کے دوران اس نظام نے غیر معمولی حد تک درست مقام شناسی، راستوں کی درستگی اور سگنل کے استحکام کا مظاہرہ کیا۔
ایس بی اے ایس تصحیحات کے اطلاق سے اس ڈیوائس نے روایتی اسٹینڈ الون جی این ایس ایس سسٹمز کے مقابلے میں مقام کے تعین میں نمایاں حد تک غلطیوں کو کم کیا، جس کے باعث ریلی ٹیموں کو صحرائی مقابلوں کے دوران نہایت درست نیوی گیشن سہولت میسر آئی۔
سپارکو کے مطابق پاک-ایس بی اے ایس کے استعمالات موٹر اسپورٹس تک محدود نہیں۔
مزید پڑھیں: اسپارکو کا اہم سنگِ میل، پاکستانی خلابازوں کے انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل
اعلامیے کے مطابق یہ نظام قدرتی آفات کے دوران امدادی ٹیموں اور متاثرہ علاقوں کی درست نگرانی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، فلیٹ مینجمنٹ اور ٹرانسپورٹ کی کارکردگی بہتر بنا سکتا ہے۔
فضائی سفر میں محفوظ نیوی گیشن کو فروغ دے سکتا ہے، اور سروے و نقشہ سازی کے منصوبوں میں غلطیوں اور اخراجات میں کمی لا سکتا ہے۔
پاک-ایس بی اے ایس کا اجرا پاکستان کی تکنیکی خود انحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو عوامی تحفظ کو مضبوط بنانے، عملی کارکردگی بہتر بنانے اور ملک بھر میں درست نیوی گیشن صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔













