پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بھجوا دیا۔ پارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں انہوں نے صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور دیگر قانون ساز اداروں سے فوری اجتماعی استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آنکھوں کے علاج کا معاملہ: ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچ گئی، میڈیکل رپورٹ بھی ارسال
میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے خط میں مراد سعید نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ کی توہین پر قائم ہے اور آئین پر حلف اٹھانے کے باوجود اس کی اصل روح کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’منتخب اور حقیقی وزیر اعظم‘ کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے ارکانِ اسمبلی کو ہی احتجاج پر قید کیا جا رہا ہے، اسی لیے وہ بطور احتجاج استعفیٰ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مراد سعید جولائی 2025 میں خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم روپوشی کے باعث حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔

دوسری جانب حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو، جو اس وقت قید اور علیل ہیں، اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کر کے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا مزید معائنہ اور علاج ماہر امراض چشم کی زیر نگرانی خصوصی طبی مرکز میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے لیے الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال میں 10 کمرے مختص، ڈاکٹروں کے نام بھی سامنے آگئے
یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب عمران خان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ جیل میں ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، جس کے بعد پارٹی کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جائے گی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی چیئرمین کو خاندان اور ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر اسپتال منتقل نہ کیا جائے۔ پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ طبی معائنہ کم از کم ایک اہلِ خانہ کی موجودگی میں کیا جائے اور کسی بھی خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔














