رمضان المبارک: میڈیا اور مذہبی شخصیات کے لیے ضابطہ اخلاق جاری، احترام اور رواداری کو ترجیح

اتوار 15 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان کے تمام میڈیا اداروں، اینکرز، خطباء اور مقررین کے لیے رمضان المبارک کے دوران ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے تاکہ مقدس مہینے میں دینی تقدس، سماجی امن اور قومی اتحاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس کے بعد مرتب کیا گیا۔

میڈیا اور مذہبی شخصیات کی ذمہ داریاں

ضابطہ اخلاق کے مطابق رمضان المبارک میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ نہ صرف رائے عامہ تشکیل دیتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ تمام پروگرامز اور مذہبی اجتماعات میں مقررین اور اینکرز اس بات کو اجاگر کریں کہ اسلام اختلاف کے باوجود امن، برداشت اور مکالمے کا درس دیتا ہے، نہ کہ تشدد یا تصادم کا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے بھارت کو شکست دی آپ کا تو معاملہ ہی بہت آسان ہے، طاہر اشرفی نے افغانستان کو خبردار کردیا

علما اور خطبا کی ہدایات

علماء، مشائخ اور مذہبی راہنما عوام کو درست اور غلط نظریات میں فرق سمجھائیں اور کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دینا ریاست کا اختیار ہے۔ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں اور پروگرامز میں یہ اصول واضح طور پر پیش کیے جائیں۔ تمام مذہبی شخصیات، ذاکرین اور خطباء پر لازم ہے کہ وہ امت کو جوڑنے، نفرت کم کرنے اور معاشرتی امن کے فروغ میں کردار ادا کریں۔

اختلافات اور حساس موضوعات

اختلافی موضوعات جیسے تراویح کی رکعات یا سحر و افطار کے اوقات پر غیر ضروری بحث سے گریز کیا جائے اور کسی بھی پروگرام، خطاب یا گفتگو میں ایسا مواد شامل نہ کیا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت یا عوامی جذبات کو بھڑکائے۔ انبیاء، صحابہ، خلفاء راشدین اور اہل بیت کے احترام کو مقدم رکھا جائے اور کسی بھی مذہبی شخصیت، مسلک یا عقیدے کے خلاف طنزیہ یا اشتعال انگیز گفتگو ناقابل قبول ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:’وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان‘، مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور ممنوعہ مواد

اینکرز، مقررین یا مہمان کسی فرد یا گروہ کے ایمان پر فیصلہ صادر نہیں کر سکتے اور غیر مسلم شہریوں کے آئینی، مذہبی یا سماجی حقوق کو محدود یا مشکوک بنانے والی گفتگو منع ہے۔ ایسے واعظین یا مقررین جو سابقہ طور پر نفرت انگیزی یا سماجی اختلاف کا سبب بن چکے ہوں، انہیں پروگرام میں شامل نہ کیا جائے اور سیاسی جماعتوں یا شخصیات کے حوالے سے ایسی گفتگو جو عوام میں نفرت یا انتشار پیدا کرے، ممنوع ہے۔

اجلاس اور شرکا

یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جاری کیا گیا، جس کی صدارت حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی، اور اجلاس میں مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عمر فاروق، مفتی فلک شیر، مولانا مبشر رحیمی، مولانا محمد اشفاق پتانی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا نعمان حامد، مولانا عبد الباسط، مولانا ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق آزاد، قاری فیصل امین، قاری ساجد اور دیگر نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں