شہرِ قائد کے تاریخی مقام فیریئر ہال میں ونٹیج اور کلاسیک گاڑیوں کی شاندار نمائش منعقد ہوئی، جس میں 1924 سے لے کر 2000 تک کے ماڈلز کی 120 سے زائد نایاب گاڑیاں پیش کی گئیں۔
نمائش کی سب سے بڑی کشش نواب آف بہاولپور کی 1924 رولز رائس سلور گھوسٹ تھی، جس نے اس سال اپنی عمر کی سنچری (102 سال) مکمل کی۔ یہ وہی تاریخی گاڑی ہے جسے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 14 اگست 1947 کو سندھ اسمبلی کی تقریبِ آزادی میں شرکت کے لیے استعمال کیا تھا۔
نمائش میں دنیا بھر کے مختلف ممالک (امریکا، یورپ، جرمنی اور جاپان) کی تیار کردہ شاہکار گاڑیاں موجود تھیں، جن میں 1926 کی شیورلیٹ سپیریئر (Chevrolet Superior) اور 1926 کی آسٹن سیون چمی (Austin Seven Chummy) شامل ہیں۔
دیگر نایاب گاڑیوں میں 1938 رولز رائس ریتھ، 1941 کیڈیلک، 1952 ایم جی ٹی ڈی، اور 1966 آسٹن مارٹن شامل ہیں۔ فورڈ مسٹینگ، پورشے، بی ایم ڈبلیو اور مختلف مرسڈیز بینز ماڈلز بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز رہے۔
اینٹیک کارز میوزیم کے بانی شعیب قریشی نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد پاکستان میں آٹوموبائل ورثے کے تحفظ کو فروغ دینا اور دنیا کو پاکستان کا مثبت امیج دکھانا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کوئی باقاعدہ فزیکل کار میوزیم نہیں ہے، اس لیے ایسی نمائشیں لوگوں کو تاریخ کے ان شاہکاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
نمائش میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نوجوانوں نے نایاب گاڑیوں کے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور مالکان سے ان گاڑیوں کی بحالی اور انجن کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ گاڑیوں کے مالکان کا کہنا تھا کہ ان پرانی گاڑیوں کو اصل حالت میں برقرار رکھنا ایک مہنگا اور صبر آزما شوق ہے، لیکن یہ ان کے لیے ایک جنون کی حیثیت رکھتا ہے۔












