ابو ظہبی کے اسکولوں میں بچوں کے لیے صحت مند خوراک یقینی بنانے کے لیے نئے قوانین جاری کر دیے گئے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج نے اسکولوں میں ممنوعہ کھانے اور مشروبات کی فہرست شائع کی ہے۔ یہ قوانین اسکول میں فراہم کیے جانے والے کھانے اور گھر سے لائے گئے کھانوں دونوں پر لاگو ہوں گے۔
قوانین کے مطابق اسکول کے لنچ باکس میں میٹھے مشروبات، زیادہ چکنائی یا شکر والے کھانے، پراسیسڈ اشیاء، مصنوعی ایڈٹیوز اور کچھ ڈیری و سویابین مصنوعات شامل نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ والدین کو خوراک سے متعلق فیصلوں میں شامل کریں اور قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مخصوص عملہ مقرر کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مفت کھانا
اسکولوں میں ممنوعہ کھانوں اور مشروبات کی فہرست:
میٹھے مشروبات: شکر والے مشروبات، سیرپ والے جوس، سافٹ ڈرنکس، انرجی یا اسپورٹس ڈرنکس (سوائے مخصوص آئسوٹونک ڈرنکس کے)
کیفین والے مشروبات: کافی اور چائے (گرم یا آئسڈ)
زیادہ میٹھے کھانے: کینڈی، چاکلیٹ (سوائے ڈارک چاکلیٹ کے)، مارشمیلو، لالی پاپ، آئس کریم، فلیورڈ یا میٹھا دودھ و دہی۔
یا تلے ہوئے کھانے: فرائیڈ چکن، چکن نگٹس، فلافل، سموسے، آلو یا مکئی کے اسنیکس، پراسیسڈ گوشت، اچار۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
پراسیسڈ اور مصنوعی کھانے: مصنوعی رنگ، ذائقے یا کیمیکل والے کھانے، ، مخصوص فوڈ ایڈٹیوز، تیار شدہ سوسز جیسے کیچپ یا رینچ۔
دیگر ممنوعہ اشیاء: سور کا گوشت یا مشتقات، الکوحل والے کھانے، ہائیڈروجنیٹڈ فیٹس، 12 ماہ سے کم بچوں کے لیے شہد، انپاسچرائزڈ خوراک، سویابین مصنوعات، گری دار میوے، اور وہ کھانے جو بچوں کے لیے چبانے یا نگلنے میں خطرہ ہیں۔
پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے قانونی کارروائی اور جرمانوں کے تابع ہوں گے۔ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ادارے پر فوری کارروائی کرے۔














