وزیراعظم نے اعظم نذیر تارڑ کا استعفی مسترد کردیا، کام جاری رکھنے کی ہدایت

منگل 29 نومبر 2022
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اعظم نذیر تارڑ کا بطور وزیرقانون استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام لے کر وفاقی وزرا کے وفد کی اسلام آباد میں سینیٹر اعظم نزیر تارڑ کی رہائش گاہ پہنچے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب پر مشتمل وفد نے اعظم نزیر تارڑ سے ملاقات کی اور انہیں استعفیٰ واپس لینے پر منانے کی کوشش بھی کی۔

وفاقی وزرا کے وفد نے اعظم نزیر تارڑ کو وزیراعظم کے فیصلے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ’شہباز شریف نے استعفیٰ مسترد کر کے آپ کو وزیرقانون کے منصب پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے، لہذا آپ اپنا کام جاری رکھیں‘۔
وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اعظم نزیر تارڑ بدھ کو وزیر قانون کی ذمہ داریاں پھر سے سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ سینیٹر اعظم نزیر تارڑ نے 24 اکتوبر کو وزیر قانون کے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ جس کے بعد سردار ایاز صادق کو وزیر قانون کی اضافی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پاکستان کو ورلڈ بینک کی بڑی مالی معاونت مل گئی

’بیٹا! اس کیس کو کیوں فالو کرنا ہے؟‘ گل پلازہ سانحہ اور عدالت کا تاریخی فیصلہ

بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی

علی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، ’بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں‘

سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ

ویڈیو

اسلام آباد مینگو فیسٹیول: آموں کی بہار، شہریوں کا زبردست رش

خیبر پختونخوا: ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں اضافے کی قانون سازی پر شدید عوامی ردعمل

استحکام پاکستان پارٹی وفاقی سیاسی قوت، عمران خان کے برعکس علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں، گل اصغر خان

کالم / تجزیہ

خارجی عفریت اور ہمارا فکری محاذ

کفالت نہیں، خود انحصاری

فتنۂ الخوارج کا بہیمانہ اندازِ قتل و قتال، جہاد یا حیوانیت..؟