کم عمری میں وزن کا بڑھ جانا ہمیشہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ بچہ پوری زندگی موٹاپے کا شکار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیزی سے بڑھتا موٹاپا، عوام اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی عمر میں وزن میں اضافہ بعض اوقات جینیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے جو بعد کی زندگی میں لازمی طور پر موٹاپے کا سبب نہیں بنتے۔
6 ہزار سے زائد بچوں پر تحقیق
یہ تحقیق برطانیہ کے معروف منصوبے ’چلڈرن آف دی 90‘ کے تحت کی گئی جس میں 6,291 بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز سال 1991 اور 1992 میں پیدا ہونے والے تقریباً 14,500 بچوں کی طویل مدتی نگرانی سے ہوا تھا۔
آسٹریلیا کے ماہرین نے ماڈلنگ تکنیک کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ ایک سے 18 سال کی عمر تک بچوں کے جسمانی وزن میں تبدیلی پر جینیاتی عوامل کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
جینیاتی عوامل مختلف عمروں میں مختلف اثرات
یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ سے وابستہ ڈاکٹر گینگ وانگ کے مطابق والدین اکثر اس وقت پریشان ہو جاتے ہیں جب بچہ کم عمری میں وزن بڑھا لے یا دوسروں سے مختلف انداز میں نشوونما پائے لیکن ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ان تبدیلیوں میں جینیاتی فرق اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیرخوار بچوں کے جسمانی حجم پر اثر انداز ہونے والے جینیاتی عوامل، نوعمری میں وزن پر اثر ڈالنے والے عوامل سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق کم عمر بچوں میں جسمانی حجم کا فرق مستقبل میں لازمی طور پر موٹاپے کے خطرے کی عکاسی نہیں کرتا۔
10 سال کی عمر کے بعد خطرات بڑھ سکتے ہیں
یہ تحقیق جو آن لائن جرنل ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تقریباً 10 سال کی عمر کے بعد باڈی ماس انڈیکس اور ایک سے 18 سال تک مجموعی نشوونما کی رفتار بعد کی زندگی میں ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کی بیماریوں سے زیادہ واضح تعلق رکھتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا موٹاپا، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی ڈیمنشیا کی وجہ بن سکتے ہیں؟
منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر نکولس ٹمپسَن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ایک سے 18 سال کی عمر تک باڈی ماس انڈیکس میں تبدیلی اور مختلف عمروں میں اس کی اوسط سطح کے ساتھ جینیاتی تعلق کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
آئندہ تحقیق کی ضرورت
ڈاکٹر نکول وارننگٹن نے کہا کہ مستقبل میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ موٹاپے یا کمزور نشوونما کی روک تھام کے لیے کون سی عمر سب سے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
سال2024/2025 کے قومی اعداد و شمار کے مطابق 4 سے 5 سال کے بچوں میں 10.5 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 10 سے 11 سال کی عمر میں یہ شرح 5ویں حصے سے بھی زیادہ ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا کے پہلے سال کے عروج کو چھوڑ کر ریسیپشن کلاس کے بچوں میں موٹاپے کی شرح 2006/07 کے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ گزشتہ سال کی 9.6 فیصد شرح سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: موٹاپا اور شوگر کا خطرہ، چاول پکانے سے پہلے ضرور کریں یہ کام
تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بچپن میں وزن میں اضافہ ہمیشہ زندگی بھر کے موٹاپے کی پیش خیمہ نہیں کرتا۔ جینیاتی عوامل مختلف عمروں میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ابتدائی عمر میں وزن بڑھنے کو لازمی خطرہ تصور کرنا درست نہیں۔ تاہم بڑی عمر میں باڈی ماس انڈیکس اور مجموعی نشوونما کی رفتار صحت کے طویل المدتی نتائج پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے۔













