افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا جس کے جھٹکے پشاور اور اس کے گردونواح میں بھی محسوس کیے گئے۔ شہری خوف کے باعث گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں زلزلہ: مرکز خضدار سے 86 کلومیٹر شمال مشرق میں، شدت 5.6 ریکارڈ
زلزلہ جمعہ کی شام 20 فروری 2026 کو شام 6 بج کر 10 منٹ (پاکستانی معیاری وقت) پر آیا۔ محکمہ موسمیات پاکستان، اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 73 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 35 اعشاریہ 55 درجے شمالی عرض البلد اور 69 اعشاریہ 70 درجے مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق فوری طور پر زلزلے کے محسوس ہونے سے متعلق کسی بڑے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

زلزلے کے جھٹکے پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ بعض علاقوں میں چند سیکنڈ تک زمین لرزتی رہی جس کے باعث لوگ کھلے مقامات کا رخ کرتے رہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت اور اثرات سے متعلق مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ
دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے تمام ضلعی انتظامیہ سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ضلعی سطح پر بھی کنٹرول رومز کو فعال رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ہندوکش کا علاقہ زلزلوں کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے اور یہاں وقتاً فوقتاً درمیانی شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں جن کے اثرات پاکستان کے شمالی اور مغربی علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔














