ذوالفقار علی بھٹو کا مصور دوست

اتوار 22 فروری 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف شاعر اور فکشن نگار سید کاشف رضا نے ایک فیس بک پوسٹ میں نامور صحافی اور ادیب شفیع عقیل کو یاد کیا تو ساتھ ہی ان کے علمی و ادبی کام کے ایک ایسے پہلو کا ذکر بھی کیا جو اردو لکھنے والوں میں شفیع عقیل کی ایک طرح کی انفرادیت رہی۔

شفیع عقیل ان گنے چنے لکھاریوں میں شامل تھے جنہوں نے اردو میں مصوروں اور مصوری پر جم کر لکھا اور ان موضوعات پر ان کی کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ ان سے مصوروں کے ادب اور ادیبوں سے گہرے سمبندھ کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا ہے۔

ایک زمانے میں ادیبوں اور مصوروں میں گاڑھی چھنتی تھی لیکن اب ان میں پہلے سا ربط ضبط نہیں رہا۔

کاشف رضا کی دانست میں اس انقطاع کا نقصان دو طرفہ ہے۔ وہ ادیبوں کو دیگر فنون سے جوڑنے کے لیے شفیع عقیل کی مصوروں اور مصوری پر کتابوں کے مطالعے کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

کاشف رضا کی تحریر سے میرے ذہن میں سب سے پہلے شاکر علی کا خیال آیا کیوں کہ ادیبوں سے ان کے جتنا گہرا تعلق شاید ہی کسی اور مصور کا رہا ہو۔ ان کے دروازے اہلِ قلم کے لیے کھلے رہتے تھے جن سے ان کے روابط کی تاریخ ’شاکر علی فن و شخصیت‘ میں محفوظ ہو گئی ہے۔

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی شائع کردہ اس کتاب میں محمد حسن عسکری، انتظار حسین، صفدر میر، انور سجاد، مظفر علی سید، سبط حسن، ڈاکٹر محمد اجمل، کشور ناہید اور سہیل احمد خان کی تحریریں شامل ہیں۔ شاکر علی اور دوسرے مصوروں کے مضامین نے اس کتاب کو اور بھی باوقعت بنادیا ہے۔

تخلیق کاروں کے شاکر علی سے فنی و شخصی تعلق کی یہ ایک وقیع دستاویز ہے جس میں وہ عہد بھی سانس لیتا دکھائی دیتا ہے جس میں ایک بڑا مصور ہمارے درمیان موجود تھا۔

اس کتاب کے دائرے سے نکل کر ہم نے کچھ اور کتابوں اور رسالوں میں تانک جھانک کرکے ادب سے باہر کی دنیا کے ایک فرد ذوالفقار علی بھٹو کے شاکر علی سے مراسم کا ذکر چھیڑنا ہے۔

اس موضوع پر کچھ لکھنے کی بہت دیر سے ٹھان رکھی تھی، تاہم حال ہی میں معروف مصور سلیمہ ہاشمی کی دو جلدوں میں شائع ہونے والی یادداشتوں نے اس ارادے کو پورا کرنے کی راہ سجھائی ہے۔

اس کتاب کی ’اینٹر سٹیج لیفٹ‘ کے عنوان سے دوسری جلد میں سلیمہ ہاشمی نے بھٹو کی آرٹس سے دلچسپی کا تذکرہ کرتے ہوئے شاکر علی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پراگ سے واپسی پر انہوں نے سولو نمائش کی تو اس میں فروخت ہونے والی تین تصویروں میں سے دو کے خریدار نوجوان وکیل ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

بھٹو کی ملکیت کا حصہ بننے والی ایک تصویر ’برائیڈ‘ کا سراغ لگانے میں سلیمہ ہاشمی کامیاب ٹھہریں جو کہ 70 کلفٹن کراچی میں موجود تھی۔ نصرت بھٹو کا خیال تھا کہ دوسری تصویر غالباً لاڑکانہ والے گھر میں تھی۔

سلیمہ ہاشمی کے فنکارانہ تجسس نے انہیں یہ معلوم کرنے پر اکسایا کہ ’برائیڈ‘ کہاں اور کس حال میں ہے۔ ہماری صحافیانہ چیٹک نے ہمیں نوجوان وکیل بھٹو کے ایوب خان کی کابینہ میں وزیر بننے کے بعد، شاکر علی کے فن پاروں کی لاہور میں نمائش کے افتتاح کے موقع پر کی گئی تقریر کا حوالہ ڈھونڈنے کی سعی پر آمادہ کیا۔

یہ تقریر 1960 میں حنیف رامے کی زیر ادارت ‘نصرت’ کے ایک پرچے میں نظر سے گزری تھی۔ تلاش بسیار کے بعد نہ صرف وہ پرچہ بلکہ ‘لیل و نہار’ کا وہ شمارہ بھی ذاتی کتب خانے سے مل گیا جس میں اس نمائش کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

نصرت میں ’شاکر علی کی نئی تصویریں‘ کے عنوان سے تحریر میں ذوالفقار علی بھٹو کا بیان کچھ یوں نقل ہوا ہے:

’اب ماڈرن آرٹ ہمارے ملک میں اجنبی نہیں رہا۔ یہ ہماری ثقافتی اور معاشرتی زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماڈرن آرٹ ایک متنازع فیہ مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس آرٹ نے آرٹ کی روایات میں تبدیلی پیدا کی ہے اور اس میں نئی قدروں کو متعارف کروایا ہے۔ ماڈرن آرٹ داخلی تاثرات کی نقشہ کشی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تاثرات کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور اس طرح اس کے محاسن کے بارے میں اتفاق رائے مشکل ہے۔ مسٹر شاکر علی پاکستان میں ماڈرن آرٹ کے اہم پیش رو ہیں۔ ان کی ایک تصویر جس کا نام ’دلہن‘ ہے میرے ڈرائنگ روم میں بھی آویزاں ہے جب کبھی میرے کسی ملاقاتی کی اس پر نظر پڑ جاتی ہے اور وہ مجھ سے اس کی وضاحت چاہتا ہے تو ہر مرتبہ کہنے کے لیے مجھے کوئی نئی بات سوچنی پڑتی ہے۔‘

ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ میں شاکر علی کی تصویروں کے نمونے بھی شائع ہوئے اور نمائش کی رپورٹ کا انٹرو تو آپ کو اس وقت کے ماحول کا حصہ بنا دیتا ہے:

’دو مئی کی شام گرما کے اس جسم جلا دینے والے مہینے کی عام شاموں سے یوں قطعاً مختلف تھی کہ اس سمے الحمرا کے کھلے سبز صحنوں میں در آنے والی خنک ہوائیں موسم بہار کی یاد تازہ کررہی تھیں۔ اس سانولی سلونی شام کو یہاں ملک کے ایک معروف مصور شاکر علی کی تصویروں کی نمائش منعقد ہونے والی تھی اور الحمرا کے خوش وضع مہمان اس لمحے کا انتظار کررہے تھے جب انہیں رنگوں کی اس چمکتی دنیا کی چھب دیکھنی تھی۔ ان باذوق خواتین و حضرات میں مرکز کے وزیر جناب ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے معصوم چہرے پر تمکنت بھری مخصوص متانت لیے ہوئے تشریف فرما تھے۔ آپ کی آمد کا مقصد شاکر علی کی 17 تصاویر پر مشتمل نمائش کا افتتاح کرنا تھا۔‘

نوجوان وکیل ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر بن کر بھی شاکر علی سے ناتے کو برقرار رکھا اور پھر ان سے دوستی وزیراعظم بن کر بھی نبھائی۔

کشور ناہید نے اپنی کتاب ’شناسائیاں، رسوائیاں‘ میں بتایا ہے:

’شاکر علی کے مداحوں میں ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے۔ جب وہ لاہور آتے تو شاکر علی کو چائے پینے کے لیے بلواتے۔ اس دن شاکر علی ہم سب سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔ شیخی میں کہتے: بس آج ہم بھٹو صاحب سے بات کریں گے۔‘

کمال احمد رضوی نے شاکر علی کے خاکے میں لکھا ہے:

’بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ شاکر صاحب ناشتے کی میز پر اخباروں کی سرخیاں پڑھ کر اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ بھٹو کو داد دے رہے تھے۔‘

شاکر علی کے بارے میں حیدر علی جان اور زین نقوی کے گرافک ناول ’سپیرو ایٹ ہارٹ‘ میں بھی بھٹو اور شاکر علی کے تعلق کا حوالہ آیا ہے۔

شاکر علی نے لاہور میں اپنا گھر بڑے چاؤ سے بنوایا تھا، یہ ان کے تخلیقی ذہن کا آئینہ دار تھا جس کی تعمیر کے لیے انہوں نے بڑا جوکھم اٹھایا تھا لیکن افسوس فنِ تعمیر کے اس نادر نمونے میں انہیں زیادہ عرصہ رہنا نصیب نہیں ہوا۔ ان کا انتقال ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم اور معروف مصور حنیف رامے وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ مرکز میں کلچر کی وزارت عبدالحفیظ پیرزادہ کے پاس تھی۔ اس سے پہلے کہ شاکر علی کا گھر خاندانی تنازعات کی نذر ہوتا، ان کے قدر دانوں کی تحریک پر حکومت نے اس گھر کو شاکر علی میوزیم بنانے کا اعلان کر دیا اور بھٹو دور ہی میں پاکستان میں کسی مصور کے نام پر بننے والے اس پہلے سرکاری میوزیم کا افتتاح ہوگیا جو 50 برس سے شاکر علی کی تصویروں اور ان سے وابستہ دوسری چیزوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہے۔

اس گھر کی تعمیر کے لیے شاکر علی کی سرگرمیوں کی ایک جھلک کشور ناہید کے اس بیان میں دیکھی جاسکتی ہے:

’شاکر علی کا گھر بنانے کا انداز بھی عجب تھا۔ اینٹوں کے بھٹے پر جا کر جلی ہوئی ٹیڑھی میڑھی اینٹیں نکال کر الگ کرنا۔ پھر بھٹے والے کو کہنا کہ اس طرح کی ہزاروں اینٹیں بنا دو۔ نیّر علی دادا کے ساتھ بیٹھ کر نقشے کو فائنل کرنا۔ میرا خیال ہے لاہور شہر میں اتنی لمبی کھڑکیاں اور جس انداز سے بنی ہیں وہ صرف شاکر علی کے گھر کی ہیں۔ گھر کی اینٹیں ہی نہیں، گھر کے دروازوں اور لائٹوں کا بھی انوکھا اسٹائل نکالا گیا۔

شاکر علی میوزیم بڑے بڑے مراحل سے گزرنے کے باوجود اب بھی قائم ہے۔

مجھے یاد ہے کہ تعمیر کے دوران اتنے اتنے لمبے شیشے کھڑکیوں میں لٹکائے جارہے تھے کہ ایک دن دوپہر کو بہت سخت آندھی آئی، کوئی کھڑکی شاید کھلی رہ گئی یا ہوا کا زور ایسا تھا کہ ایک شیشہ ٹوٹ گیا۔ شاکر نے کہا: یار اب ایک اور پینٹنگ بنانی پڑے گی۔ اب بھی جب کبھی شاکر علی میوزیم میں کوئی چیز خراب ہوتی ہے، مجھے لگتا ہے شاکر پوچھ رہے ہیں: اب ایک اور پینٹنگ کون بنائے گا۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری

جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

ہمارے پاس ابھی کئی سرپرائزز باقی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو انتباہ

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچیں گے

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان