امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں بڑے نقصان کے ایک دن بعد عالمی تجارتی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے پچھلے محصولات کے منصوبے کو عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی سپریم کورٹ نے وینزویلا کے باشندوں کی جبری ملک بدری روک دی
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل اور تفصیلی جائزے کے بعد وہ عالمی محصولات کو قانونی حد تک بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام امریکا کو عظیم بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
یاد رہے کہ جمعے کو سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی وسیع تجارتی محصولات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایمرجنسی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کیا۔ عدالت کے مطابق یہ قانون قومی ہنگامی حالات کے لیے ہے، لیکن صدر نے اسے عالمی تجارتی محصولات کے لیے استعمال کیا، جو اختیارات سے باہر تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ ٹیرف بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت عائد کیے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایمرجنسی پاورز کے ذریعے عالمی سطح پر محصولات عائد کرنا صدر کے اختیار سے تجاوز تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں نئی قانونی حدود میں رہتے ہوئے محصولات کے نئے قواعد جاری کیے جائیں گے تاکہ امریکا کی تجارتی پوزیشن مضبوط رہے۔













