بارہ مولا میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو 2 دہائیاں بیت گئیں، متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بارہ مولا میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو 2 دہائیاں گزرنے کے باوجود شہدا کو انصاف نہ مل سکا۔

22 فروری 2006 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے گاؤں ڈوڈی پورا میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں 4 کم عمر نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے حفاظت کے نام پر مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

واقعے کے وقت چند نوجوان کھلے میدان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اسی دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 4 لڑکے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔ متاثرہ نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تمام لڑکے غیر مسلح تھے اور علاقے میں کسی قسم کی مسلح جھڑپ یا جوابی فائرنگ کی صورتحال موجود نہیں تھی۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکام کا مؤقف تھا کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات تھیں اور کارروائی انہی اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ تاہم عینی شاہدین اور جاں بحق نوجوانوں کے لواحقین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں صرف کرکٹ کھیلتے ہوئے مقامی لڑکے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرگیا

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

تاحال اس واقعے کے حوالے سے کسی حتمی عدالتی پیش رفت یا ذمہ داران کے تعین سے متعلق واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں اور مقامی حلقوں کی جانب سے بھی شفاف تحقیقات پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟