بارہ مولا میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو 2 دہائیاں گزرنے کے باوجود شہدا کو انصاف نہ مل سکا۔
22 فروری 2006 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے گاؤں ڈوڈی پورا میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں 4 کم عمر نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے حفاظت کے نام پر مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری
واقعے کے وقت چند نوجوان کھلے میدان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اسی دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 4 لڑکے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔ متاثرہ نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تمام لڑکے غیر مسلح تھے اور علاقے میں کسی قسم کی مسلح جھڑپ یا جوابی فائرنگ کی صورتحال موجود نہیں تھی۔
دوسری جانب سیکیورٹی حکام کا مؤقف تھا کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات تھیں اور کارروائی انہی اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ تاہم عینی شاہدین اور جاں بحق نوجوانوں کے لواحقین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں صرف کرکٹ کھیلتے ہوئے مقامی لڑکے موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرگیا
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تاحال اس واقعے کے حوالے سے کسی حتمی عدالتی پیش رفت یا ذمہ داران کے تعین سے متعلق واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں اور مقامی حلقوں کی جانب سے بھی شفاف تحقیقات پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔














